کتاب: محبت کرنا سیکھئے - صفحہ 390
مبتلا ہوگیا۔ اس نے اذان چھوڑ دی او راتر کر اس عورت کی طرف چل دیا۔ جب وہ ان کے گھر میں داخل ہوا تو اس لڑکی نے کہا : کیسے آئے ہو؟ اور کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا میں تجھے چاہتا ہوں ۔ پوچھنے لگی وہ کیسے؟ کہا : تو نے میری عقل اُچک لی ہے ، اور میرے دل کو پوری طرح اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ وہ عورت کہنے لگی : میں تمہیں کبھی بھی برائی کی اجازت نہیں دوں گی۔ وہ کہنے لگا : میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نے کہا: تم مسلمان ہو اور میں عیسائی ہوں اور میرا والد میری شادی تجھ سے نہیں کرے گا۔ اس نے کہا : میں عیسائی ہو جاتا ہوں ۔ وہ کہنے لگی : اگر تم ایسا کرو گے (یعنی عیسائی ہوجاؤگے ) تو میں تم سے شادی کرلوں گی۔ وہ انسان اس عورت سے شادی کرنے کے لیے عیسائی ہوگیا، اور ان کے ساتھ اس گھر میں رہنے لگا۔ا سی دوران ایک دن وہ گھر کی چھت پر چڑھا، اور وہاں سے گر کر حرام موت مرگیا۔ وہ عورت بھی اس کے ہاتھ نہ آئی اور دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔ ‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں ۔ بے شک شہوت جو نوجوان اور دوشیزائیں اپنے نفس میں محسوس کرتے ہیں ، صرف فاسق و فاجر لو گوں کے لیے ہی پیدا نہیں کی گئی، بلکہ نیک مرد او رنیک عورتیں جو کہ عفت و پاکدامنی کی زندگی گزار رہے ہیں اوروہ لوگ جوکہ دعوت دین اور علم وتعلیم اور خیر پھیلانے کے کاموں میں مصروف ہیں ، ان کے نفس بھی انھیں ان شہوات کا مقابلہ کرنے کے لیے دعوت دیتے ہیں ۔ بسا اوقات ایسے بھی ہوسکتا ہے کہ اہل خیر کے ہاں کسی فاجر و فاسق انسان سے بڑھ کر قوی شہوت ہو۔ مگر انہوں نے اپنے رب کی اطاعت اور اس سے ثواب کی امید میں شہوت کو قابو میں رکھتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اور حرام کے درمیان ایک آڑ اور فاصلہ قائم کردے، اور ہمیں ان لوگوں میں سے بنادے جو کوئی خطا اور غلطی کریں تو استغفار کرنے لگتے ہیں ؛اور اگرنیکی کریں تو اس سے خوشخبری پاتے ہیں ، اور ہماری خواہشات کو ان چیزوں میں لگادے جن سے وہ راضی ہوتا ہے اور جن سے محبت کرتا ہے۔