کتاب: محبت کرنا سیکھئے - صفحہ 389
انسان اکثر و بیشتر بلاد روم میں مجاہدین کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ جب کہ وہ بعض معرکوں میں شریک تھا ، اور مسلمان روم کے شہروں میں سے ایک شہر کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ تو اچانک اس نے قلعہ میں اہل روم کی ایک عورت کو دیکھا وہ اس کے دل میں گھر کر گئی۔ اس نے اس عورت سے خط و کتابت شروع کردی کہ وہ کیسے اس تک پہنچ سکتا ہے؟ اس عورت نے کہا : عیسائی ہوجاؤ ، اور قلعہ پر چڑھ آؤ۔ اس نے اس عورت کی دعوت پر لبیک کہا۔ مسلمانوں کو اس وقت اس کا علم ہوا جب وہ اس عورت کے پاس پہنچ چکا تھا۔ تو اس واقعہ سے مسلمان بہت زیادہ غمگین ہوئے اور یہ حادثہ مسلمانوں پربہت گراں گزرا۔ جب ایک مدت گزر گئی تو ان کا گزر اس آدمی پر ہوا ، وہ اس عورت کے ساتھ اس قلعہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ تو مسلمانوں نے کہا : اے فلاں انسان ! تیرے قرآن نے تیرے ساتھ کیا کیا؟ اور تیرے عمل نے تیرے ساتھ کیا کیا؟ اور تیرے روزوں نے تیرے ساتھ کیا کیا؟اور تیرے جہاد نے تیرے ساتھ کیا کیا؟ اور تیری نماز نے تیرے ساتھ کیا کیا؟ تو وہ کہنے لگا : ’’ جان لو کہ مجھے سارا قرآن بھلا دیا گیا ہے ، سوائے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے : ﴿ رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ ‎﴿٢﴾‏ ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴾ (الحجر:۲،۳) ’’وہ وقت بھی ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے۔ آپ انھیں کھاتا، نفع اٹھاتا اور (جھوٹی)امیدوں میں مشغول ہوتا چھوڑ دیجئے یہ خود بھی جان لیں گے۔ ‘‘ ایک قصہ یہ بھی ہے کہ مصر میں ایک آدمی تھا۔ جو کہ ہمیشہ مسجد میں رہتا ، نماز پڑھنے اور اذان دینے کا اہتمام کیا کرتا تھا۔ اس کے چہرے پر نور اور عبادت کے اثرات نمایاں تھے۔ ایک دن و ہ حسب معمول اذان دینے کے لیے منارہ پر چڑھا۔ مینار کے نیچے ایک عیسائی کا گھر تھا۔ اس نے گھر میں جھانکا تو اس گھر والے عیسائی کی بیٹی کو دیکھ لیا ، اور اس کے فتنہ میں