کتاب: محبت کرنا سیکھئے - صفحہ 385
۲۔جریج عابد رحمہ اللہ کا قصہ : سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’… ایک عورت نے کہا کہ میں جریج کو پھانس لوں گی، وہ اس کے سامنے آئی اور اس سے بات چیت کی لیکن اس نے انکار کر دیا، تو وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اپنے آپ کو اس کے حوالہ کر دیا۔ چنانچہ اس کے ایک بچہ پیدا ہوا۔ تو کہنے لگی: یہ جریج کا ہے۔ لوگ جریج کے پاس آئے اس کے عبادت خانے کو توڑ دیا، اس کو عبادت خانے سے نیچے اتارا اور اس کو گالی دی۔ جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر اس لڑکے پاس آ کر کہا :اے بچے تیرا باپ کون ہے؟ اس بچہ نے جواب دیا: چرواہا …‘‘[1] دیکھیں ! اللہ تعالیٰ نے کیسے ایک بچے کو قوت گویائی دے دی ، اس لیے کہ اس نے اس فاحشہ عورت کے ساتھ برائی کرنے کو پوری پوری قدرت ہونے کے باوجود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس کے خوف سے ترک کردیا تھا۔ ۳۔ربیع بن خثیم رحمہ اللہ کا قصہ : ان کی قوم کے کچھ شریر لوگوں نے ایک بہت ہی حسن و جمال والی عورت سے مطالبہ کیا
[1] صحیح بخاری، کتاب الاحادیث الانبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ:۳۴۳۶ ۔ صحیح مسلم: ۲۵۵۰۔ پوری روایت اس طرح ہے: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس کا نام جریج تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اس کو بلایا، لیکن اس نے جواب نہ دیا، اور اپنے جی میں کہا کہ میں نماز پڑھوں یا اس کی بات کو جواب دوں ، پھر اس کی ماں اس کے پاس آئی اور کہا یا اللہ اس کو موت نہ دے جب تک کہ وہ فاحشہ عورت کا منہ دیکھ لے، ایک دن جریح اپنے عبادت خانہ میں تھا، ایک عورت نے کہا کہ میں جریج کو پھانس لوں گی، وہ اس کے سامنے آئی اور اس سے بات چیت کی، لیکن اس نے انکار کر دیا، تو وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا، چناچہ اس کے ایک بچہ پیدا ہوا۔ تو کہنے لگی یہ جریج کا بچہ ہے، لوگ جریج کے پاس آئے اس کے عبادت خانے کو توڑ دیا، اس کو عبادت خانے سے نیچے اتارا اور اس کو گالی دی، جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر اس لڑکے پاس آ کر کہا اے بچے تیرا باپ کون ہے؟ اس بچہ نے جواب دیا چرواہا لوگوں نے(جریج سے) کہا:ہم تیرا عبادت خانہ سونے کا بنا دیں گے جریج نے کہا نہیں مٹی ہی کا بنوا دو(جیسا پہلے تھا)۔