کتاب: محبت کرنا سیکھئے - صفحہ 384
اس سے دھوکا میں مبتلا کرتا ہے۔ پس جتنا بھی جلدی ہوسکے ، حرام کام کے ٹھکانوں سے بھاگ جائیے۔
۴۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿ قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ ﴾ (یوسف:۳۳)
’’[یوسف نے دعا کی] اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورت مجھے بلا رہی ہے اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے، اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل نادانوں میں جا ملوں گا۔‘‘
۵۔ آپ کا نیک اور صالح ہونا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ﴾ (یوسف:۲۴)
’’بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔‘‘
۶۔ آپ کا فحاشی کے کام پر تکلیف و مصیبت برداشت کرنے کو ترجیح دینا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿ قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ﴾ (یوسف:۳۳)
’’[یوسف نے دعا کی] اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورت مجھے بلا رہی ہے اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے۔‘‘
بلاشبہ اس قصہ میں عبرتیں اور نصیحتیں ہیں جو کہ مسلمان نوجوان پر واجب کرتی ہیں کہ وہ ان سے عبرت حاصل کریں اور ان دروس سے استفادہ کریں ، اور ان آیات کو صرف ایک قصہ کی حد تک سن کر آگے نہ گزر جائیں ۔ بلکہ ان کو پڑھتے وقت مفید چیزیں حاصل کرنے والے متعلم کی طرح ہونی چاہیے۔