کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 89
رکھے جائیں گے۔‘‘[1] مزید فرمایا:﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ﴾ ’’اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے کیوں نہیں کہا کہ جو اللہ چاہے(وہی ملتا ہے)اوراللہ کے بغیر(کسی کے پاس)طاقت نہیں ہے۔‘‘[2] اور فرمایا:﴿وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللّٰهُ﴾’’اور اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت نہ پا سکتے۔‘‘[3] 2: تقدیر الٰہی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں خبر دی ہے۔آپ نے فرمایا:’إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِي بَطْنِ أُمِّہِ أَرْبَعِینَ یَوْمًا،ثُمَّ یَکُونُ فِي ذٰلِکَ عَلَقَۃً مِّثْلَ ذٰلِکَ،ثُمَّ یَکُونُ فِي ذٰلِکَ مُضْغَۃً مِّثْلَ ذٰلِکَ،ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ الْمَلَکَ فَیَنْفُخُ فِیہِ الرُّوحَ،وَ یُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ:بِکَتْبِ رِزْقِہِ وَ أَجَلِہِ وَ عَمَلِہِ وَ شَقِيٌّ أَوْ سَعِیدٌ،فَوَالَّذِي لَا إِلٰہَ غَیْرُہُ!إِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا یَکُونُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَہَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُھَا وَ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا یَکُونُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلُہَا‘ ’’بلاشبہ تم میں سے ہر کوئی چالیس دن تک ماں کے رحم میں(نطفے کی صورت میں)پڑا رہتا ہے،پھر اتنی ہی مدت جما ہوا خون اور پھر اتنی ہی مدت گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے،اس کے بعداللہ تعالیٰ(اس کی طرف)فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور اس کی بابت اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے:اس کی روزی،زندگی،عمل اور یہ کہ وہ(انجام کے لحاظ سے)بدبخت ہے یا سعادت مند۔پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود(برحق)نہیں!تم میں سے ایک انسان جنتیوں والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے،پھر لکھائی اس پر سبقت لے جاتی ہے اور وہ جہنمیوں والے کام شروع کر دیتا ہے،بالآخر جہنم میں جاداخل ہوتا ہے۔اسی طرح ایک انسان دوزخیوں والے کام کرتا رہتا ہے حتی کہ جہنم اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے،پھر لکھائی اس پر سبقت لے جاتی ہے اور وہ اہلِ جنت کے کام شروع کر دیتا ہے(اور)بالآخر جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘[4] ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا:’’میں تجھے کچھ باتیں سکھائے دیتا ہوں:’اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ،اِحْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاہَکَ:إِذَا سَأَلْتَ فَاسْئَلِ اللّٰہَ،وَ إِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ،وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعْتْ عَلٰی أَنْ یَّنْفَعُوکَ بِشَيْئٍ لَّمْ یَنْفَعُوکَ إِلَّا [1] الأنبیآء 101:21۔ [2] الکھف 39:18۔ [3] الأعراف 43:7۔ [4] صحیح مسلم، القدر، باب کیفیۃ خلق الآدمي في بطنِ أمّہ:، حدیث: 2643۔