کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 85
جسے تمھارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور بے شک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔‘‘[1] ارشادِ ربانی ہے:﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴿٩٣﴾وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ ۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ﴿٩٤﴾ ’’اور کاش تم اس وقت(کی کیفیت)کو دیکھو جب ظالم موت کی سختیوں میں(مبتلا)ہوتے ہیں اور فرشتے(ان کی طرف)اپنے ہاتھ پھیلاتے(اور کہتے)ہیں:نکالو اپنی جانیں،آج تمھیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا،اس لیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نسبت غلط باتیں کہتے تھے اور اس کی آیات سے خود کو بڑا جانتے تھے۔(آج)تم ہمارے پاس اکیلے آئے ہو،جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور جن نعمتوں میں ہم نے تمھیں خوش حالی دی،وہ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو اور ہم تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی نہیں دیکھ رہے،جنھیں تم اپنے(معاملات)میں ہمارا شریک سمجھتے تھے،تمھارے اور ان کے مابین تعلق ٹوٹ چکا ہے اور جو تم سمجھتے تھے وہ سب تم سے گم ہو گیا ہے۔‘‘[2] فرمانِ الٰہی ہے:﴿سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ﴾ ’’عنقریب ہم انھیں دو بار سزا دیں گے،پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘[3] ارشادِ عالی ہے:﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ ’’وہ(فرعونی)صبح وشام جہنم کی آگ پر پیش کیے جاتے ہیں اور قیامت کے دن(کہا جائے گا اے فرشتو!)آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔‘‘[4] مزید فرمایا: ﴿يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ﴾ ’’دنیا وآخرت کی زندگی میں اللہ ایمان والوں کو درست بات(کتاب و سنت)پر ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کرتا ہے۔‘‘[5] 2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ارشاداتِ عالیہ میں احوالِ برزخ کی خبر دی ہے:((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِہِ وَ تَوَلّٰی عَنْہُ أَصْحَابُہُ،وَ إِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ،أَتَاہُ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہِ فَیَقُولَانِ:مَا کُنْتَ تَقُولُ فِي ہٰذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُولُ:أَشْہَدُ أَنَّہُ عَبْدُ اللّٰہِ وَ رَسُولُہُ)) [1] الأنفال 51,50:8۔ [2] الأنعام 94,93:6۔ [3] التوبۃ 101:9۔ [4] المؤمن 46:40 [5] إبراھیم 27:14۔