کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 84
3: لاکھوں انبیاء ومرسلین،حکماء وعلماء اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا آخرت اور جو کچھ اس کے متعلق کتاب و سنت میں وارد ہے،اس پر پختہ ایمان،مضبوط اعتقاد اور غیرمتزلزل یقین اس کی سچائی کی مزید دلیل ہے۔ عقلی دلائل: 1: اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ مخلوق کو فنا کر کے دوبارہ پیدا کر دے کیونکہ اس کے لیے مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے کے بعد دوبارہ اسی حالت میں لوٹانا کوئی مشکل نہیں۔ 2: پھر مرنے کے بعد اٹھایا جانا اور جزا وسزا کا عمل کسی بھی عقلی دلیل کے خلاف نہیں کیونکہ عقل محال اور ناممکن چیزوں کی تو نفی کرتی ہے جیسا کہ دو باہم متضاد اشیاء کا اجتماع اور دو مخالف چیزوں کا ایک ہی وقت میں اکٹھے ہو جانا جبکہ بعث وجزا اس قبیل سے نہیں ہیں۔ 3: مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات کی حکمت جو زندگی کے ہر میدان میں نمایاں ہے،اس بات کو محال قرار دیتی ہے کہ موت کے بعد مخلوق زندہ نہ ہو اور انسانی زندگی کسی نتیجے اور جزا وسزا کے بغیر یونہی ختم ہو جائے۔ 4: دنیا کی نعمتیں اور شقاوتیں ایک دوسرے جہان میں ایک دوسری زندگی کا پتہ دیتی ہیں جس میں عدل،خیر اور کمال کا دور دورہ ہو گااور جس میں سعادت و شقاوت کہیں زیادہ برتر اور بڑھ چڑھ کر ہوں گی۔بس یوں سمجھ لیجیے کہ موجودہ زندگی اوراس میں ملنے والی سعادت مندی اور حرمان نصیبی اس اخروی زندگی کے مقابلے میں بالکل ایسی ہے،جیسے بڑے بڑے عالیشان محلات کے سامنے ایک محل کی کاغذ پر تصویر ہو یا گھنے گھنے باغات کے سامنے کاغذ کے ایک پرزے پر کسی باغ کی منظر کشی ہو،نیز بے گناہوں کی مظلومیت اور ان کی انصاف سے محرومی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی ایسا دن اور ایسی عدالت ہو جہاں ہر ظالم کیفرِکردار کو پہنچے،سو وہ اللہ کی عدالت ہے جو میدانِ محشر میں لگے گی۔ باب:11 قبر کی جزا و سزا پر ایمان قبر کی آسائشیں اورگونا گوں عذاب برحق ہیں،فرشتوں کے سوالات یقینی ہیں اور اس کے عقلی ونقلی دلائل موجود ہیں: کتاب وسنت کے دلائل: 1: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی خبر دی ہے۔ارشادِ باری ہے:﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا ۙ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ﴿٥٠﴾ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ﴾ ’’اور کاش تم اس وقت(کی کیفیت)دیکھو جب فرشتے کافروں کی جان قبض کرتے وقت ان کے چہروں اور سرینوں پر مارتے ہیں اور(کہتے ہیں):اب عذابِ آتش(کا مزہ)چکھو،یہ اس(کفروشرک)کی وجہ سے ہے