کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 82
ہڈی کا منکا باقی رہے گا اور قیامت کے دن اسی سے(انسان کی)تخلیق ہو گی۔‘‘[1] ایک خطبہ دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:((یٰأَیُّہَا النَّاسُ!إِنَّکُمْ مَّحْشُورُونَ إِلَی اللّٰہِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا،﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾أَلَا!وَ إِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ یُکْسٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلَامُ،أَلَا!وَ إِنَّہُ سَیُجَائُ بِرِجَالٍ مِّنْ أُمَّتِي فَیُؤْخَذُ بِہِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ:یَا رَبِّ!أَصْحَابِي،فَیُقَالُ:إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ)) ’’اے لوگو!تم اللہ کی طرف ننگے پاؤں،ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے اکٹھے کیے جاؤ گے۔فرمان الٰہی ہے:’’ جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی(اسی طرح)اسے لوٹائیں گے یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے،یقینا ہم ہمیشہ پورا کرنے والے ہیں۔‘‘ سنو!قیامت کے دن مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔اور سنو!میری امت کے کچھ مردوں کو لایا جائے گا اور انھیں بائیں راستے کی طرف ڈال دیا جائے گا۔میں کہوں گا:’’میرے رب!یہ میرے ساتھی ہیں۔‘‘ مجھے کہا جائے گا:’’تو نہیں جانتا انھوں نے تیرے بعد دین میں کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں۔‘‘[2] حدیث نبوی ہے:((لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ:عَنْ عُمُرِہِ فِیمَا أَفْنَاہُ،وَ عَنْ عِلْمِہِ مَا عَمِلَ بِہِ،وَ عَنْ مَّالِہِ مِنْ أَیْنَ اکْتَسَبَہُ وَ فِیمَا أَنْفَقَہُ،وَ عَنْ جَسَدِہِ فِیمَا أَبْلَاہُ)) ’’قیامت کے دن کسی بندے کے قدم اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے،جب تک وہ چار چیزوں کا حساب نہ دے لے گا:عمر کن کاموں میں صرف کی،علم پر کتنا عمل کیا،مال کہاں سے کمایا اور کس جگہ خرچ کیا اور اپنے جسم کو کہاں کہاں استعمال کیا؟‘‘ [3] فرمانِ نبوی ہے:((حَوْضِي مَسِیرَۃُ شَہْرٍ،مَاؤُہُ أَبْیَضُ مِنَ اللَّبَنِ،وَرِیحُہُ أَطْیَبُ مِنَ الْمِسْکِ،وَ کِیزَانُہُ کَنُجُومِ السَّمَائِ،مَنْ شَرِبَ مِنْہَا فَلَا یَظْمَأُ أَبَدًا)) ’’میرے حوض کا حجم ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے،اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی مہک کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہو گی،اس کے آب خورے آسمان کے ستاروں کی مثل ہوں گے،جو ایک بار اس سے(پانی)پی [1] صحیح مسلم، الفتن، باب ما بین النفختین، حدیث : 2955۔ [2] صحیح مسلم، الجنۃ ونعیمھا، باب فناء الدنیا وبیان الحشر یوم القیامۃ، حدیث: 2860۔ [3] [ضعیف]،جامع الترمذي، صفۃ القیامۃ، باب في القیامۃ، حدیث: 2417، والترغیب والترھیب،حدیث: 5266، اس کی سند ابوبکر بن عیاش اور اعمش راوی کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس کاکوئی شاہد بھی صحیح نہیں ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب ’’تخریج النہایۃ في الفتن والملاحم، حدیث: 854‘‘ شیخ البانی نے اسے شواہدکی بنا پرصحیح کہا ہے۔ (السلسلۃ الصحیحۃ: 946)(ع۔و)