کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 77
اسے وحی کی ہے۔اس دن لوگ مختلف گروہوں میں نکلیں گے،تاکہ انھیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔پس جس نے ایک ذرہ بھر نیکی کی ہوگی،وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ایک ذرہ بھر برائی کی ہو گی،وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘[1] اور فرمایا:﴿هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ ’’یہ لوگ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرا رب آئے یا تیرے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں۔جس دن تیرے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں گی تو کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اُسے کوئی فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا۔‘‘[2] ارشادِ رحمن ہے:﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ﴾ ’’اور جب ان پر بات ثابت ہو جائے گی تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور(دَابَّۃُ الْأَرْض)نکالیں گے،جو ان سے کلام کرے گا کہ بے شک یہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔‘‘[3] ارشادِ عالی شان ہے:﴿حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ﴿٩٦﴾وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ ’’یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج چھوڑ دیے جائیں گے اور وہ ہر اونچے ٹیلے سے تیزی سے دوڑتے آرہے ہوں گے۔(قیامت کا)سچا وعدہ قریب ہو جائے گا تو کفر کرنے والوں کی آنکھیں اچانک کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔‘‘[4] ارشادِ مقدس ہے:﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ﴿٥٧﴾وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴿٥٨﴾إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ﴿٥٩﴾وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنكُم مَّلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ﴿٦٠﴾وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا﴾ ’’اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم کے افراد(خوشی سے)چلانے لگے اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ(عیسیٰ)؟[5] انھوں نے عیسیٰ کی مثال صرف جھگڑنے کے لیے دی،بلکہ یہ [1] الزلزال 8-1:99۔ [2] الأنعام 158:6۔ [3] النمل 82:27۔ [4] الأنبیآء 97,96:21۔ [5] مشرکین مکہ، نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ اقدس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکرِ خیر سنتے تو یہ کٹ حجتی کرتے تھے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں کے معبود ہونے کے باوجود قابلِ مدح ہیں تو پھر ہمارے معبود کیوں برے ہیں ؟ کیا وہ بھی بہتر نہیں ؟ یا اگر ہمارے معبود جہنم میں جائیں گے توپھر (