کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 72
﴿وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ ’’اوران کی مثال انجیل میں اس کھیتی کی طرح ہے جس سے ایک کونپل نکلی،پھر وہ مضبوط ہوئی،پھر موٹی ہوئی،پھر وہ تنے پر اس طرح کھڑی ہوئی کہ کسانوں کو بھلی لگی،تاکہ کفار ان کی و جہ سے جلیں اور غضب ناک ہوں۔‘‘[1] اس سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم ہیں۔ 3: ’’میں اب جارہا ہوں،اگر میں نہیں جاؤں گا تو وہ فارقلیط(بہت تعریف والا)نہیں آئے گا۔میں چلا گیا تو اسے تمھاری طرف ضرور بھیجوں گا۔جب وہ آئے گا تو سب جہان والوں کو گناہ پر تنبیہ کرے گا۔‘‘ انجیل کے اس جملہ میں کس قدر واضح انداز سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوش خبری دی گئی ہے۔اگر اس سے آپ مراد نہ ہوں(تو پھر)فارقلیط(بہت حمد کرنے والایا بہت تعریف کیا ہوا،یعنی محمد یا احمد)کون ہے؟ اور کس نے اقوامِ عالم کو معصیت وگناہ پر ڈانٹ دی ہے؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی،اس وقت دنیا والے شروفساد کے سمندر میں تیر رہے تھے اور ان میں بت پرستی خیمہ زن تھی اور اہلِ کتاب بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھے۔عیسیٰ علیہ السلام کے بعدحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کے مالک،اللہ جل شانہ،کی طرف دعوت دی؟ عقلی دلائل: 1: آخر اس سے کیا مانع ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مقرر کر کے مبعوث کرے جبکہ اس سے قبل سیکڑوں رسول اور ہزاروں نبی مقرر کیے گئے ہیں۔عقلاً و شرعاً کوئی چیز اس سے مانع نہیں تو پھر آپ کی عامۃ الناس کے لیے رسالت ونبوت کا کیونکر انکار کیا جائے؟ 2: آپ کے زمانے کے حالات اس امر کے متقاضی تھے کہ انسانوں کے پاس آسمانی پیغام پہنچے،اللہ تعالیٰ کا قاصد ازسرِ نو معرفتِ الٰہی کی تجدید کرے اور انسان اللہ تعالیٰ کی صحیح پہچان کر لیں۔ 3: اطرافِ عالم کی بہت بڑی آبادی میں اسلام کا تیزی سے پھیلنا اور لوگوں کا اپنے مذاہب ترک کر کے اسے اپنانا،آپ کی صداقت ِنبوت کی دلیل ہے۔ 4: اور آپ کے پیش کردہ اصولوں کا سچا،درست اور کارآمد ثابت ہونا،جن کے فوری اور بابرکت نتائج برآمد ہوئے،یہ سب اس حقیقت کا بیّن ثبوت ہیں کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں اور ان کا حامل،اللہ تعالیٰ کا سچا رسول اور برحق نبی ہے۔ 5: آپ کے ذریعے سے معجزات کا صدور اور خرقِ عادت امور کا وقوع پذیر ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے [1] الفتح 29:48۔