کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 715
’مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًَا لَّہُ فِي عَبْدٍ ....‘ ’’جس نے غلام میں موجود اپنے حصے کو آزاد کیا۔‘‘٭ اسی طرح آپ کا یہ فرمان:’مَنْ أَعْتَقَ شَقِیصًا مِّنْ مَّمْلُوکِہِ ....‘ ’’جس نے اپنے مال سے غلام میں موجود اپنے حصے کو آزاد کیا تو وہی اسے اپنے مال سے پوری رہائی دلائے۔‘‘[1] 6: اگر کوئی شخص مرض الموت میں ایک یا زیادہ غلام آزاد کرتا ہے تو ایک تہائی جائیداد کے اندر وہ آزاد ہوں گے،اس لیے کہ مرض الموت میں غلام آزاد کرنا وصیت کی مانند ہے اور وصیت تہائی سے زائد میں جائز نہیں ہے۔ تدبیر کا بیان: ٭ تدبیر کی تعریف: غلام کی آزادی کو مالک کی موت کے ساتھ معلق کرنا تدبیر کہلاتا ہے،مثلاً:مالک غلام کو یہ کہے کہ تو میری موت کے بعد آزاد ہے۔ایسا غلام مالک کی موت کے بعد آزاد ہو جائے گا۔ ٭ تدبیر کا حکم: غلام ’’مدبر‘‘ کرنا جائز ہے،الّا یہ کہ مالک کی ملکیت میں اس غلام کے علاوہ اور کوئی جائیداد نہ ہو تو پھر تدبیر ناجائز٭ ہے۔صحیح بخاری و مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ((أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَّہُ عَنْ دُبُرٍ فَاحْتَاجَ،فَأَخَذَہُ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَقَالَ:’مَنْ یَّشْتَرِیہِ مِنِّي؟‘ فَاشْتَرَاہُ نُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بِکَذَا وَکَذَا(بِثَمَانِ مِائَۃِ دِرْھَمٍ)(فَأَخَذَ ثَمَنَہُ)فَدَفَعَہُ إِلَیْہِ)) ’’ایک شخص نے اپنا غلام موت کے بعد آزاد کرنے کا کہا،پھر وہ خود محتاج ہو گیا۔آپ نے فرمایا:’’مجھ سے یہ غلام کون خریدتا ہے۔‘‘ چنانچہ نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہموں کے عوض اسے خرید لیا اور آپ نے یہ رقم غلام کے مالک کو دے دی اور فرمایا(اس محتاجی میں)تو اس کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘[2] ٭ تدبیر میں حکمت: مسلمان کے لیے سہولت اور آسائش پہنچانا مطلوب ہے کہ ایک شخص غلام آزاد کرنا چاہتا ہے مگر وہ زندگی میں اس کی خدمت کا بھی ضرورت مند ہے،اگر وہ اسے اپنی زندگی کے بعد آزاد کر دے تو آزادی کے ثواب کا مستحق ہو جائے گا اور زندگی بھر اس کی خدمت بھی اسے حاصل رہے گی۔ ٭ تدبیر کے احکام: 1: مالک اپنے غلام کو جب یہ کہے کہ’ ’تو میرے بعد آزاد ہے۔‘‘یا ’’میں نے تجھے مدبر ٭ یعنی جب ایک مشترک غلام کا ایک حصہ آزاد کر دیا جائے تو اسلام دیگر حصہ داروں کو اس کی قیمت دے کر پورا غلام آزاد کرنے کی ترغیب دیتا ہے تو جو ایک ہی مالک کا غلام ہے اگر اسے جزوی آزادی مل جائے تو اسلام اس کی مکمل آزادی کو کیوں نہیں چاہے گا۔ ٭ کیونکہ یہی غلام اس کا کل ترکہ ہے جب یہی آزاد ہو گیا تو اس کی تجہیز و تکفین کا کیا بنے گا۔اگر مقروض ہے تو قرض کہاں سے ادا ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ورثاء کو کیا ملے گا۔واللہ اعلم(ع،ر) [1] صحیح البخاري، الشرکۃ، باب تقوم الأشیاء بین الشرکاء:، حدیث: 2492۔ [2] صحیح البخاري، البیوع، باب بیع المزایدۃ، حدیث: 2141، وصحیح مسلم، الزکاۃ، باب الابتداء في النفقۃ:، حدیث: 997۔