کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 712
دیکھتے ہو اور انھیں اللہ کے مال میں سے دو،جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘[1] زکاۃ کے مصارف میں ایک مصرف غلام آزاد کرنے میں تعاون کرنا بھی ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۗ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ ’’صدقات فقراء،مساکین اور اس میں کام کرنے والوں کے لیے اور جن کی تالیف قلب ٭ مطلوب ہے اور غلام آزاد کرنے میں اور مقروض لوگوں کے لیے اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کے لیے ہیں،یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے،اللہ جاننے والا،حکمت والا ہے۔‘‘[2] اگر کسی و جہ سے غلام کا کچھ حصہ آزاد ہو جائے تو آزادی اس کے تمام اجزاء میں سرایت کر آتی ہے،اس لیے کہ مسلمان جب کسی مقصد کے لیے غلام کا نصف یا ثلث آزاد کرتا ہے تو اسے شرعی حکم ہے کہ باقی کی قیمت ادا کر کے پورا غلام آزاد کرے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَّہُ فِي عَبْدٍ،فَکَانَ لَہُ مَالٌ یَّبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ عَلَیْہِ قِیمَۃَ عَدْلٍ فَأَعْطٰی شُرَکَاؤَہُ حِصَصَھُمْ وَعَتَقَ عَلَیْہِ الْعَبْدُ)) ’’جس نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے تو منصفانہ قیمت طے کر کے اس کے حصہ داروں کو اس کی قیمت ادا کرے اور(اس طرح پورا)غلام آزاد ہو جائے گا۔‘‘[3] مالک اپنی لونڈی سے ہم بستری کر سکتا ہے تاکہ’ ’ام ولد‘‘(اس کے بچے کی ماں)ہونے کی صورت میں لونڈی آزاد ہو جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((أَیُّمَا أَمَۃٍ وَّلَدَتْ مِنْ سَیِّدِھَا فَھِيَ حُرَّۃٌ بَعْدَ مَوْتِہِ))’’جو لونڈی اپنے سردار کی اولاد پیدا کر لے،وہ اس کی موت کے بعد آزاد ہے۔‘‘[4] غلام کو اگر کسی نے مارا تو اس پر اسے آزادی کا پروانہ مل گیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ((مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَّہُ حَدًّا لَّمْ یَأْتِہِ أَوْلَطَمَہُ فَإِنَّ کَفَّارَتَہُ أَنْ یُّعْتِقَہُ)) ’’جو اپنے غلام کو ناکردہ کام پر ’’حد‘‘ لگاتا ہے یا بلا وجہ تھپڑ مارتا ہے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے ٭ کسی کو اس لیے مال دینا تا کہ اگر کافر ہے تو اسلام لے آئے،لا چکا ہے تو اس پر قائم رہے۔واللہ اعلم(ع،ر) [1] النور 33:24۔ [2] التوبۃ 60:9۔ [3] صحیح البخاري، العتق، باب: إذا أعتق عبدًا بین:، حدیث: 2522، وصحیح مسلم، العتق، باب من أعتق شرکالہ:، حدیث: 1501۔ [4] [ضعیف] سنن ابن ماجہ، العتق، باب أمھات الأولاد، حدیث: 2515، والمعجم الکبیر للطراني: 167/11، حدیث: 11519 واللفظ لہ۔ اس کی سند حسین بن عبداللہ کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔