کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 710
کے یورپ کی منڈیوں میں لے جا کر فروخت کر دیتے اور قیمت کھا جاتے تھے۔ اسلام نے،جو اللہ کا سچا دین ہے،یہ سب اسباب ممنوع قرار دیے۔صرف ایک سبب بحال رہا،یعنی جنگ کے ذریعے سے غلام بنانا اور اسلام کا یہ اقدام انسانیت کے لیے رحمت ثابت ہوا،اس لیے کہ جنگی انتقام میں لوگ عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کر دیتے تھے،اسلام نے انھیں غلام بنا کر رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ زندہ رہیں اور پھر ان کی آزادی کی صورتیں پیدا کی جائیں۔ لڑنے والے دشمنوں کے بارے میں بھی اسلام نے احسان کر کے انھیں چھوڑ دینے کا حکم دیا یا فدیہ لے کر انھیں آزاد کرنے کی تجویز دی۔٭ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا﴾ ’’جب تم کافروں کو جنگ میں ملو تو ان کی گردنیں اڑاؤ،جب خوب خون ریزی کر لو تو ان(زندہ بچ جانے والوں)کو مضبوطی سے باندھو،پھر احسان کر کے یا فدیہ(عوضانہ)لے کر(انھیں)چھوڑ دینا یہاں تک کہ جنگ ختم ہو جائے۔‘‘[1] ٭ غلاموں کے ساتھ مسلمانوں اور دیگر اقوام کابرتاؤ: امت مسلمہ کے علاوہ دنیا کی تمام اقوام غلاموں کے بارے میں قریب قریب ایک ہی انداز اپنائے ہوئے تھیں۔ان کے ہاں غلام کو ہر چیز اور جملہ اغراض کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور بلاسبب اسے بھوکا رکھنا،مارکٹائی کرنا اور طاقت سے بڑھ کر اس سے کام لینا ایک عام وطیرہ تھا،اسے آگ سے داغ دیا جاتا اور اس کے اعضاء کاٹ دیے جاتے تھے،نیز اسے ’’آلۂ روح‘‘ گردانا گیا اور ’’زندہ سامان‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ ٭ امیر لشکر یا امام انھیں مجاہدین میں تقسیم کر دے گا۔گویا اسلام نے صرف کافر جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی صورت جائز قرار دی ہے جبکہ باقی دو صورتیں ناجائز قرار دی ہیں۔عصر حاضر میں مسلم ممالک جنگی قیدیوں کی بابت اگر کسی عالمی معاہدے کی پابندی قبول کر چکے ہوں تو وہ اس کی پابندی کریں گے ورنہ غلام بنانے میں کوئی حرج نہیں،بشرطیکہ حقیقی اسلامی جہاد کی صورت پیدا ہو جائے۔باقی جہاں تک جرائم پیشہ افراد کی طرف سے مختلف ممالک سے سمگل شدہ عورتوں کی تجارت کا تعلق ہے تو اس طریقے سے کسی عورت کو لونڈی بنانا درست نہیں ہے۔ایسے لوگ سخت گنہگار ہیں۔حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ انھیں عبرتناک سزا دے اور مظلوموں کو ان کے پنجۂ استبداد سے رہائی دلا کر ان کے گھروں تک پہنچائے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتی اور کوئی مسلمان کسی وجہ سے اپنے طور پر ایسی کسی مظلوم عورت،مرد یا بچے کو خرید کر اس کے گھر پہنچاتا ہے تو یہ غلام یا لونڈی کی آزادی کے قائم مقام ہو گا بلکہ اس سے بھی زیادہ،واللہ اعلم۔(ع،ر) [1] محمد 4:47۔