کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 71
2: تورات میں یہ بھی ہے:’’اے نبی!ہم نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا مبعوث کیا ہے۔تو ان پڑھوں کا محافظ ہے اور میرا بندہ اور رسول ہے۔میں نے تیرا نام ’’توکل کرنے والا‘‘ رکھا ہے،تو بدخلق،درشت گفتار نہیں ہے اور نہ بازاروں میں اونچی آوازیں لگانے والا ہے،برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا،بلکہ عفو ودرگزر سے کام لیتا ہے:اور انھیں اس وقت موت آئے گی جب گمراہ قوم ٹھیک ہو جائے گی اور وہ کہیں گے:’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اندھی آنکھیں،بہرے کان اور بند شدہ دل کھول دے گا۔‘‘ 3: نیز تورات میں لکھا ہے: ’’ان لوگوں نے اپنے معبودانِ باطلہ کی پرستش کر کے مجھے غضب ناک کر دیا ہے،میں انھیں ایک اور گروہ کے ذریعے سے تبدیل کروں گا اور جاہل گروہ(شعب جاہل)کے ذریعے سے میں انھیں غصہ دلاؤں گا۔‘‘ ’’شعب جاہل‘‘ سے واضح طور پر عرب مراد ہیں کیونکہ آپ کی آمد سے پہلے یہ محض جاہل تھے،اسی لیے یہودی،عربوں کو ’’ان پڑھ‘‘ کہتے تھے۔ 4: اسی طرح تورات میں یہ بھی تحریر ہے:’’یہودا سے چھڑی زائل نہیں ہوگی اور مدبر اسی کی نسل میں رہیں گے،یہاں تک کہ وہ آجائے جس کے لیے سب کچھ ہے اور اقوام اسی کے انتظار میں ہوں گی۔‘‘ اقوام وملل ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کس کے انتظار میں تھیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہود تو بالخصوص شدت سے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔البتہ حسد نے انھیں ایمان واتباع کی دولت سے محروم کر دیا۔سورئہ بقرہ میں ارشادِ باری ہے: ﴿وَكَانُوا مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُم مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ ۚ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَافِرِينَ﴾ ’’وہ(یہودی)اس سے پہلے کافروں کے خلاف فتح کی دعائیں مانگتے تھے۔پھر جب ان کے پاس وہ(آخری رسول)آ گیا،جسے انھوں نے پہچان بھی لیا تو اس کا انکار کر دیا،پس ان انکار کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘[1] اور انجیل میں درج ذیل خوشخبر یاں موجود ہیں: 1: ’’انھی دنوں یوحنا یہود میں وعظ کرنے آیا اور کہا:’’توبہ کرو،آسمانوں کی بادشاہت(کی آمد)کا وقت قریب آگیا ہے۔‘‘ ’’آسمانی بادشاہت‘‘ کا اشارہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ 2: ایک اور مثال میں ارشاد فرمایا:’’آسمانی بادشاہت کی مثال رائی کے دانے کی ہے،جسے انسان اپنے کھیت میں کاشت کرتا ہے جبکہ یہ چھوٹا سا بیج ہوتا ہے،لیکن جب بڑھتا ہے تو بڑی سبزی بن جاتا ہے۔‘‘ انجیل کی یہ عبارت قرآنِ پاک کی اس مثال کی عکاسی کر رہی ہے: [1] البقرۃ 89:2۔