کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 699
’’اللہ تجھے یہ چیز واپس نہ کرے،اس لیے کہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔‘‘[1] اور جیسا کہ آپ نے ان تین صحابہ کے بائیکاٹ کا حکم دیا جو بغیر کسی عذر کے غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور اسی پر اکتفا کیا۔[2] مخنثوں کو مدینہ سے نکال دیا،[3] اور ایک الزام میں ایک شخص کو دن،رات قید رکھا۔[4] نیز آپ نے کھجوریں لے جانے والے کو دگنے جرمانے کا فیصلہ دیا[5] اور اسی طرح کی دیگر تعزیری سزائیں جو آپ سے ثابت ہیں اور ان میں مقصود صرف مسلمان کی تادیب و تربیت تھی۔ باب:12 قضا اور شہادت کا بیان احکام قضا کا بیان: ٭ قضا کی تعریف: احکام شریعت کے بیان اور ان کے نافذ کرنے کو’ ’قضا‘‘ کہا جاتا ہے۔ ٭ قضا کا حکم: یہ فرض کفایہ ہے اور امام پر لازم ہے کہ وہ ہر شہر میں ایک قاضی مقرر کرے جو احکام شریعت بیان کرے اور لوگوں سے ان پر عمل درآمد کرائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا یَحِلُّ لِثَلَاثَۃِ نَفَرٍ یَّکُونُونَ بِأَرْضٍ فَلَاۃٍ إِلَّا أَمَّرُوا عَلَیْھِمْ أَحَدَھُمْ))’’جنگل میں رہنے والے تین آدمیوں کے لیے بھی بغیر امیر کے رہنا جائز نہیں ہے۔‘‘[6] ٭ منصب قضاکی اہمیت: عہدہ ٔقضا ایک نازک منصب ہے اور شان و فضل کے اعتبار سے بہت بڑا ہے،اس لیے کہ اس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نیابت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کا پہلو ہے اور آپ نے اس کی نازک ذمہ داریوں کا اظہار بایں الفاظ فرمایا ہے: ((مَنْ جُعِلَ قَاضِیًا بَیْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَیْرِ سِکِّینٍ))’’جسے لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا،وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا۔‘‘[7] [1] صحیح مسلم، المساجد،باب النھي عن نشد الضالۃ في المسجد :، حدیث: 568۔ [2] صحیح البخاري، التفسیر، باب: :}، حدیث: 4677۔ [3] صحیح البخاري، المغازي، باب غزوۃ الطائف:، حدیث: 4324، وصحیح مسلم، اسلام، باب منع المحنث:، حدیث: 2180، وسنن أبي داود، الأدب، باب الحکم في المحنشین، حدیث: 4929۔ [4] [حسن ] سنن أبي داود، القضاء، باب في الدین ھل یحبس بہ؟ حدیث: 3630، وجامع الترمذي، الدیات، باب ما جاء في الحبس في التھمۃ، حدیث: 1417، اسے امام احمد،ابوداؤد اور امام ترمذی نے حسن کہا ہے اور امام حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [5] سنن ابي داود، الحدود، باب مالا قطع فیہ، حدیث: 4390۔ [6] [ضعیف] مسند أحمد: 177/2، اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے اگرچہ سنن وغیرہ میں اس کے شواہد ہیں لیکن محمد بن عجلان کی تدلیس کی وجہ سے سب ضعیف ہیں ۔ [7] [حسن] جامع الترمذي، الأحکام، باب ماجاء عن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم في القاضي، حدیث: 1325، وسنن أبي داود،7 القضاء، باب في طلب القضاء، حدیث: 3572 واللفظ لہ، اسے امام حاکم، ذہبی اور عراقی نے صحیح اور امام بغوی نے حسن کہا ہے۔