کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 697
اور ارشاد عالی ہے:﴿وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴾ ’’اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ جو اس جادو کو خریدتا(اپناتا)ہے،اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘[1] تارک نماز کا بیان: ٭ تارک نماز کی تعریف: جو مسلمان استخفاف(تحقیر)کے طور پر یا انکار کر کے نمازِ پنجگانہ ترک کر دے،وہ تارک نماز ہے۔ ٭ تارک نماز کا حکم: اس کو بار بار نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے اور اس وقت تک انتظار کیا جائے کہ نماز کا وقت ختم ہونے میں ایک رکعت پڑھنے کا وقت باقی ہو۔اگر نماز پڑھ لے تو بہتر،ورنہ اسے بطور حد قتل کر دیا جائے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ﴾ ’’اگر وہ(کفار)توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی ہیں۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ،وَیُقِیمُوا الصَّلَاۃَ،وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ،فَإِذَا فَعَلُوا ذَالِکَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَ ھُمْ وَأَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإِْسْلَامِ وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ)) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ ایک اللہ کے معبود ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کا اقرار کریں اور نماز پڑھیں اور زکاۃ ادا کریں،جب وہ یہ کام کریں گے تو انھوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے ہیں مگر اسلامی حقوق(معاف نہ ہوں گے جو جرم کرے گا،اسے سزا ملے گی)اوران کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔‘‘[3] تنبیہ:تارک نماز کو ایک رکعت کے بقدر وقت باقی رہنے تک انتظار اور اس کے بعد توبہ نہ کرنے کی صورت میں قتل کرنا امام مالک رحمہ اللہ کا مسلک ہے جبکہ امام احمد رحمہ اللہ اس کے لیے تین دن تاخیر کے قائل ہیں۔ ضروریات دین میں سے کسی بات کے انکار پر کفر کی صورت میں((لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ))کے اقرار کے ساتھ ساتھ اس بات کا اقرار بھی ضروری ہے جس کے انکار پر کفر صادر ہوا۔ مرتد،زندیق اور جادوگر کو بطو ر’’حد‘‘ قتل کیا جائے۔اس ’’حد‘‘ سے مراد شرعی سزا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَۃٌ بِالسَّیْفِ))’’جادوگر کی سزا تلوار کے ساتھ قتل کرنا ہے۔‘‘[4] [1] البقرۃ 102:2۔ [2] التوبۃ 11:9۔ [3] صحیح البخاري، الإیمان، باب ﴿ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ ﴾، حدیث: 25، وصحیح مسلم، الإیمان، باب الأمر بقتال الناس:، حدیث: 22۔ [4] [ضعیف] جامع الترمذي، الحدود، باب ماجاء في حد الساحر، حدیث: 1460۔