کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 691
((مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِّنْ حُدُودِ اللّٰہِ،فَقَدْ ضَادَّ اللّٰہَ [فِي أَمْرِہِ])) ’’جس کی سفارش اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے آگے حائل ہو گئی تو اس نے اللہ جل شانہ کے حکم کی مخالفت کی ہے۔‘‘[1] اور آپ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا:((أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِّنْ حُدُودِ اللّٰہِ))’’تم اللہ کی حدوں میں سے ایک’ ’حد‘‘ میں سفارش کر رہے ہو۔‘‘[2] گھر پر حملہ کر کے قتل کرنے اور مال لوٹنے کی سزا ’’محاربین‘‘ کی سزا کی طرح(قتل)ہے۔ اہل محاربت کی حد کا بیان: ٭ اہل محاربت کی تعریف: مسلمانوں میں سے ایک گروہ طاقت اور قوت حاصل کر کے عام لوگوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے،ان کے راستے مسدود کر دے،لوگوں کو قتل کرے اور ان کے اموال لوٹ لے تو وہ’ ’محاربین‘‘ ہیں۔ ٭ محارب لوگوں کے احکام: 1: انھیں پہلے سمجھایا جائے اور توبہ کی ترغیب دلائی جائے،اگر توبہ کر لیں تو ان کی توبہ قبول کی جائے،اگر انکار کریں تو ان سے اعلان جنگ کیا جائے اور ان کے ساتھ لڑنا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ان کے مقتولین کا خون ضائع ہے اور ان پر حملہ آور مسلمانوں کے مقتولین شہید ہیں،اس لیے کہ ارشاد ربانی ہے: ﴿فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللّٰهِ﴾’’اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔‘‘[3] 2: جو محارب توبہ سے پہلے گرفتار ہو جائے،اس پر حد نافذ ہو گی،یعنی قتل،پھانسی یا ایک ہاتھ اور مخالف سمت کا پاؤں کاٹنا یا جلاوطنی،جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ﴾ ’’ان لوگوں کی سزا،جو اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کے ساتھ ’’محاربت‘‘ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں،یہ ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا سولی پر لٹکائے جائیں یا مختلف اطراف سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انھیں علاقہ بدر کر دیا جائے۔‘‘[4] جب قبیلہ عرینہ کے کچھ افراد نے صدقہ کے اونٹ لوٹ لیے،چرواہے کو قتل کر دیا اور بھاگ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [1] [صحیح] سنن أبي داود، القضاء، باب في الرجل یعین علٰی خصومۃ من غیر أن یعلم أمرھا، حدیث: 3597، اسے امام حاکم اور ذہبی دونوں نے صحیح کہا ہے۔ [2] صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: 54،حدیث: 3475، وصحیح مسلم، الحدود، باب قطع السارق الشریف :، حدیث: 1688۔ [3] الحجرات 9:49۔ [4] المآئدۃ 33:5۔