کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 682
ہو جائے تو دوبارہ حد نافذ ہو گی۔ ٭ شرابی پر حد قائم کرنے کا طریقہ: شرابی کو زمین پر بٹھا دیا جائے اور درمیانی چابک کے ساتھ جو نہ بہت سخت ہو،نہ بہت خفیف،اسے 80 بار مارا جائے اور عورت بھی اس حکم میں مرد کی طرح ہے،البتہ پردے کے لیے اس پر کپڑا ڈالا جائے مگر اس انداز کا نہیں کہ اس کو ضرب کی اذیت سے محفوظ رکھے۔ تنبیہ:سخت سردی اور سخت گرمی میں شراب نوشی پر حد نہ لگائی جائے۔بلکہ معتدل موسم اور فضا کے لطیف ہونے کا انتظار کیا جائے۔اسی طرح نشے کی حالت میں بھی حد نہ لگائی جائے اور نہ بیماری کی حالت میں بلکہ اس سے افاقے اور تندرستی کا انتظار کیا جائے۔ حد قذف کا بیان: ٭ قذف کی تعریف: کسی کو زنا،فحش کاری یا لواطت(اغلام بازی،یعنی لڑکوں کے ساتھ بدفعلی)کا الزام دینا ’’قذف‘‘ ہے۔ ٭ قذف کا حکم: قذف کبیرہ گناہوں میں سے ہے،اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جھوٹی الزام تراشی کرنے والوں کو فاسق کہا،ان کا عادل| ہونا ساقط کر دیا اور ان پر حد کا نفاذ واجب قرار دیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴿٤﴾إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ ’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں اور پھر چار گواہ نہ لائیں،ایسے لوگوں کو اسی(80)کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو اور یہی لوگ بدکردار ہیں مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ کر لیں اور(اپنی)اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘[1] ٭ حد قذف کی مقدار: اس کی حد اسی(80)درے ہیں،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾’’ان کو اسّی دُرّے مارو۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں کو اسی(80)درے لگوائے تھے۔[3] ٭ حد قذف کی حکمت: مسلمان کی عزت و ناموس کا تحفظ اور اس کی کرامت و سلامتی کی حفاظت،اس کے ساتھ ٭ کسی شخص کی عدالت سے مراد یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت کے مطابق صحیح العقیدہ ہو،کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو اور عمومًاصغیرہ گناہوں سے بھی بچتا ہو۔شرابی ساقط العدالت ہوتا ہے جس کی و جہ سے کسی معاملے میں اس کی گواہی معتبر نہیں ہوتی۔واللہ اعلم۔(ع،ر) [1] النور 5,4:24۔ [2] النور 4:24۔ [3] سنن أبي داود، الحدود، باب في حد القاذف، حدیث: 4474، وجامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ النور، حدیث: 3181، ومسند أحمد: 35/6۔