کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 675
آپ نے قاتلہ کے’ ’عاقلہ‘‘ کو دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔[1] ’’عاقلہ‘‘ سے مراد وہ جماعت ہے جو اس کی طرف سے دیت ادا کرے گی اور اس میں اس کے آباء و اجداد،بھائی،بھائیوں کے بیٹے،چچا اور چچوں کے بیٹے شامل ہیں۔ہر ایک اپنی حالت کے مطابق اپنے حصے کی ادائیگی کرے گا اور تین سال کی مدت کی قسطیں ان پر لاگو ہوں گی،وہ ہر سال دیت کا ایک تہائی ادا کریں گے اور اگر ایک ہی بار اور فورًا ادائیگی کر سکتے ہیں تو بھی کوئی مانع نہیں ہے۔ ٭ دیت کس سے ساقط ہے: والد اپنی اولاد کو تادیب کے لیے مارتا ہے اور وہ قتل ہو جائے یا حاکم وقت کسی کو تعزیر و تادیب کے طور پر سزا دیتا ہے اور وہ مر جائے،اسی طرح استاد اپنے شاگرد کو تادیبی سزا دیتا ہے اور وہ مر جائے تو ان صورتوں میں دیت نہیں ہے قصاص تو بالا ولیٰ نہیں ہے بشرطیکہ تادیب کے لیے معروف حدود سے تجاوز نہ کیا ہو۔ دیات کا تعین: ٭ دیتِ نفس: اگر مرنے والا آزاد اور مسلمان تھا تو اس کی دیت ایک سو اونٹ یا ایک ہزار مثقال٭ سونا یا بارہ ہزاردرہم چاندی یا دو سو گائے یا دو ہزار بھیڑ بکریاں ہیں۔ اور اگر قتل’ ’شبہ عمد‘‘ ہے تو دیت مغلظہ ہو گی،یعنی سو اونٹوں میں چالیس حاملہ اونٹنیاں بھی ہوں گی اور اگر’ ’قتل خطا‘‘ ہے تو دیت مغلظہ نہیں بلکہ مخفّفہ ہو گی،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَلَا!وَإِنَّ قَتِیلَ خَطَإِ الْعَمْدِ۔بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ۔(فِیہِ)دِیَۃٌ مُّغَلَّظَۃٌ،مِائَۃٌ مِّنَ الإِْبِلِ،مِنْھَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِھَا أَوْلَادُھَا مِنْ ثَنِیَّۃٍ إِلٰی بَازِلِ عَامِھَا،کُلُّھُنَّ خَلِفَۃٌ)) ’’خبردار!بے شک شبہ عمد کا مقتول جو چابک،لاٹھی یا پتھر سے قتل ہوا،اس کی دیت مغلظہ ہے،یعنی ایک سو اونٹ،ان میں چالیس،پانچ سال سے نو سال تک کی تمام حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔‘‘[2] اور اگر’ ’قتل عمد‘‘ہے اور ’’مقتول کے ورثاء‘‘دیت پر راضی ہو گئے ہیں تو وہ دیت سے زیادہ کا مطالبہ بھی کر سکتےہیں،اس لیے کہ وہ قصاص کا حق رکھتے تھے،لہٰذا وہ قصاص سے کم تر کوئی بھی مطالبہ کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں،چاہے وہ دیت سے زیادہ ہے۔دیت کے اس تعین کی دلیل حدیث جابر رضی اللہ عنہ ہے۔فرماتے ہیں: ((فَرَضَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلٰی أَھْلِ الإِْبِلِ مِائَۃً مِّنَ الإِْبِلِ،وَعَلٰی أَھْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَۃٍ،وَعَلٰی ٭ عرف میں مثقال ڈیڑھ درہم کے وزن کا ہوتا ہے اور کبھی اس سے کم اور زیادہ بھی ہوتا ہے۔گو اونٹوں کی قیمت میں بھی کمی بیشی ہوتی ہے پھر بھی دیت میں اصل معیار اونٹ ہی ہیں باقی چیزیں ان کی عدم موجودگی میں ان کے بدل اور قیمت کی حیثیت رکھتی ہیں یہ قیمت عہد نبوی کے مطابق ہے آج کل موجودہ قیمت کا اعتبار ہو گا،واللہ اعلم۔(محمد عبدالجبار) [1] صحیح البخاري، الدیات، باب جنین المرأۃ :، حدیث : 6910۔ [2] [صحیح ] مسند أحمد: 410/3، وسنن أبي داود، الدیات، باب في دیۃ الخطأ شبہ العمد، حدیث: 4547۔