کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 668
بناؤ،البتہ ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بنا سکتے ہو۔‘‘[1] اس لیے کہ دونوں کے اختلاط سے اس میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام تک پہنچانے والے ذریعے کے طور پر اس سے منع فرما دیا ہے۔ 4: جن جانوروں کا کھانا حرام ہے،ان کا پیشاب بھی حرام ہے،اس لیے کہ وہ پلید ہیں اور پلید چیز حرام ہے۔ 5: جن جانوروں کا گوشت کھایا نہیں جاتا ان کا دودھ بھی اسی قبیل میں داخل ہے،ماسوائے انسان کے دودھ کے کہ یہ بچے کے لیے حلال ہے۔ 6: وہ تمام چیزیں جو انسانی جسم کے لیے مضر ہیں،جیسا کہ زہریلی گیسیں وغیرہ۔ 7: دھویں والے مشروبات،مثلاً:تمباکو،چرس اور سگریٹ وغیرہ،اس لیے کہ ان میں سے بعض انسانی جسم کے لیے مضر ہیں اور بعض نشہ آور ہیں اور بعض بدبودار جن سے انسان اور فرشتوں کو ایذا پہنچتی ہے اور ان صفات کی حامل اشیاء شرعًا ممنوع ہیں۔ ٭ مشروبات میں سے ’’مضطر‘‘کے لیے بعض مباح اشیاء: جس کے گلے میں کوئی چیز اٹک جائے اس کے لیے جائز ہے کہ اگر اسے کوئی حلال چیز میسر نہیں تو شراب استعمال کر لے اور اگر جان نکلنے کا خطرہ ہے جیسا کہ اسے پیاس سے مرنے کا اندیشہ ہے تو وہ بھی حرام مشروبات استعمال کر سکتا ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ﴾’’مگر جس کی طرف تم مجبور ہو جاؤ۔‘‘[2] باب:10 جنایات کا بیان انسانی جان پر جنایت: ٭ انسانی جان پر جنایت کی تعریف: کسی انسان پر اس انداز کی ظلم و زیادتی کہ اس کے جسم سے جان نکل جائے یا بعض اعضاء تلف(بیکار)ہو جائیں یا جسم پر زخم لگ جائے۔ ٭ انسانی جان پر جنایت کا حکم: ناحق طور پر قتل کرنا یا کسی عضو کو تلف کر دینا یا جسم پر زخم لگانا حرام اور کفر کے بعد مومن کے قتل سے بڑا کوئی گناہ نہیں ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا [1] صحیح البخاري، الأشربۃ، باب من رأی أن لایخلط البسر:، حدیث: 5602، وصحیح مسلم، الأشربۃ، باب کراھۃ انتباذ التمر:، حدیث: 1988 واللفظ لہ۔ [2] الأنعام 119:6۔