کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 660
کے ساتھ اسی طرح کرو۔‘‘[1] علماء نے ان سب جانوروں کو جن کا ذبح معروف طریقہ سے نہیں ہو سکتا،مذکورہ طریقے پر ہی قیاس کیا ہے۔ تنبیہات: 1: اگر ذبیحہ کے پیٹ میں حمل ہے،اس کی تخلیق بھی پوری ہو چکی ہے اور اس کے بال اگ چکے ہیں تو ماں کا ذبح اس کا ذبح ہے اور اس کو کھانا جائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:((کُلُوہُ إِنْ شِئْتُمْ،فَإِنَّ ذَکَاتَہُ ذَکَاۃُ أُمِّہِ)) ’’اگر چاہو تو کھا سکتے ہو،اس لیے کہ اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا ذبح ہے۔‘‘[2] 2: بھول کر اگر ’’بسم اللہ‘‘ نہ پڑھ سکے تو ذبح میں کوئی نقص نہیں ہے،اس لیے کہ نسیان میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مؤاخذہ نہیں ہے۔حدیث مبارکہ میں ہے: ((وُضِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوا عَلَیْہِ))’’میری امت سے خطا،نسیان اور جس کام میں ان پر جبرکیا جائے،معاف کر دیا گیا ہے۔‘‘[3] 3: ذبح میں اس حد تک مبالغہ کہ جانور کی گردن پوری کٹ جائے،صحیح نہیں ہے اگر اتفاقیہ ہو جائے تو بلا کراہت اسے کھانا جائز ہے۔ 4: ذبح کرنے والا اگر ذبح کے آداب کی مخالفت کرے کہ جن جانوروں کو ’’ذبح‘‘ کیا جاتا ہے،ان کو ’’نحر‘‘ کر دے یا ’’نحر‘‘ والے جانور کو ’’ذبح‘‘ کر دے تو مع الکراہت(ناپسندیدگی کے ساتھ)اسے کھانا جائز ہے۔٭ 5: بیمار جانور یا جس کا گلا گھٹ جائے یا جسے چوٹ لگ جائے یا پہاڑ سے گر جائے یا جسے سینگ لگ جائے یا جسے درندے نے کھا لیا ہو،اگر زندہ مل جائے اور ذبح کرنے سے اس کی روح خارج ہوئی نہ کہ مذکورہ اسباب سے تو اس کا کھانا جائز ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾’’مگر وہ جسے تم نے ذبح کر لیا۔‘‘[4] یعنی جس میں تمھیں روح محسوس ہوئی اور ذبح کر کے اس کی روح جدا کی تو وہ حلال ہے۔ 6: ذبح کی تکمیل سے پہلے اگر ذبح کرنے والا اپنا ہاتھ کھینچ لے اور کافی دیر بعد پھر ذبح کرے تو علماء ایسے ذبیحہ کے نہ کھانے کا حکم فرماتے ہیں۔اِ لَّا یہ کہ پہلی بار ذبح کا عمل پورا کر دیا گیا تھا تو تب جائز ہے۔ ٭ کراہت سے مراد یہ ہے کہ بچا جائے تو ثواب ہے نہ بچا جائے تو گناہ نہیں،اسے کراہت تنزیہی کہتے ہیں اور کبھی کراہت کا لفظ،حرمت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اسے کراہت تحریمی کہتے ہیں مکروہ تحریمی کا ارتکاب سخت گناہ ہے۔واللہ اعلم(ع،ر) [1] صحیح البخاري، الذبائح والصید، باب ما ند من البھائم فھو:، حدیث: 5509، وجامع الترمذي، الصید، باب ماجاء في البعیر والبقر:، حدیث: 1492 واللفظ لہ۔ [2] [حسن ] مسند أحمد: 31/3، وسنن أبي داود، الضحایا، باب ما جاء في ذکاۃ الجنین،حدیث: 2827۔ [3] سنن ابن ماجہ، الطلاق، باب طلاق المکرہ والناسي، حدیث: 2045,2043، والسنن الکبرٰی للبیھقي: 84/6۔ [4] المآئدۃ 3:5۔