کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 659
٭ ذبح اور نحر کا طریقہ: ذبح یہ ہے کہ جانور کو بائیں پہلو پر قبلہ رخ کر کے ڈال دیا جائے،پھر تیز چھری کے ساتھ ’’بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ ‘‘کہہ کر جلدی سے حلقوم،شاہ رگ اور رگیں کاٹ دے۔اور نحر اس طرح کہ اونٹ کو کھڑا کر کے بائیں ہاتھ سے باندھ دیا جائے،پھر اس کے سینہ کے گڑھے میں،جو قلادہ(پٹا ڈالنے کی جگہ)کے متصل ہے،تیز دھار آلہ مارتا رہے،یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹنی بٹھا کر ذبح کرنا چاہتا ہے تو انھوں نے کہا:اسے کھڑا کر اور باندھ لے یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ ٭ ذبح کے درست ہونے کی شرائط: 1: آلۂ ذبح تیز ہوجس سے سارا خون نکل جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَا أَنْھَرَ الدَّمَ،وَذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ فَکُلْ،لَیْسَ الظُّفُرَ وَالسِّنَّ)) ’’جو(جانور ایسے آلے سے ذبح کیا جائے جو)خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے،اسے کھاؤ(جبکہ)ناخن اور ہڈی(کے ساتھ ذبح کرنا درست)نہیں۔‘‘[1] 2: بسم اللہ واللہ اکبر یا صرف بسم اللہ پڑھے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ﴾ ’’جس جانور پر اللہ کا نام نہ ذکر کیا جائے،اسے نہ کھاؤ۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَا أَنْھَرَ الدَّمَ،وَذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فَکُلُوہُ)) ’’جو خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے،اسے کھاؤ۔‘‘[3] 3: حلق کے ساتھ شاہ رگ اور دونوں جانب کی رگیں ایک ہی بار کاٹ دے۔ 4: ذبح کرنے والا مسلمان،عاقل اور بالغ ہو یا سمجھدار لڑکا،نیز عورت اور کتابی بھی ذبح کر سکتے ہیں،اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾’’اور اہل کتاب کا طعام تمھارے لیے حلال ہے۔‘‘[4] اور ان کے طعام سے ان کا ذبیحہ مراد ہے۔ 5: کنویں میں گر جانے یا جانور کے بھاگ جانے کی وجہ سے اگر ذبح ممکن نہیں ہے تو اس کے جسم کے کسی حصہ پر زخم لگا دیا جائے،جس سے خون کا اجراء ہو جائے تو یہ ذبح شرعًا درست ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا،ایک آدمی نے اس کو تیر مارا اور گرا لیا تو آپ نے فرمایا: ((إِنَّ لِھٰذِہِ الْبَھَائِمِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ،فَمَا فَعَلَ مِنْھَا ھٰذَا فَافْعَلُوا بِہِ ھٰکَذَا)) ’’ان جانوروں میں وحشی جانوروں کی طرح بھاگنے والے(بھی)ہوتے ہیں،چنانچہ ان میں جو ایسا کرے تو ان [1] صحیح البخاري، الذبائح والصید، باب ما أنھر الدم من القصب والمروۃ والحدید، حدیث: 5503۔ [2] الأنعام 121:6۔ [3] صحیح البخاري، الشرکۃ،باب قسمۃ الغنم، حدیث: 2488۔ [4] المآئدۃ 5:5۔