کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 651
اصحاب الفروض سے بچا ہوا سب سمیٹ لیتا ہے۔ 2: متفرق ذوی الارحام کے اجتماع کی صورت میں اصحاب الفروض اور عصبات کی طرح اقرب(قریب ترین رشتہ دار)ابعد(دور کے رشتہ دار)کے لیے حاجب ہو گا،جیسے سگا بھائی،باپ کی وجہ سے محروم ہو جاتا ہے۔البتہ درجہ و قرب میں برابری کی صورت میں ایک دوسرے پر برتری نہیں ہو گی بلکہ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾کے قاعدے کے مطابق ان پر جائیداد تقسیم ہو گی،مثلاً:ایک شخص فوت ہو گیا اور نواسی،نواسی کی بیٹی اور نواسی کا بیٹا چھوڑ گیا تو کل مال نواسی کا ہے،اس لیے کہ وہ اقرب ہے اور باقی محروم ہیں کیونکہ وہ میت سے نواسی کی نسبت ابعد ہیں۔ ایک اور مثال:کوئی شخص حقیقی اور پدری بھتیجی چھوڑ کر مر گیا تو کل مال حقیقی بھتیجی لے گی،اس لیے کہ اس کا باپ دوسری کے باپ(پدری بھائی)کے لیے حاجب ہے۔معلوم ہوا کہ وہ جس کے قائم مقام ہوتا ہے،وہ اسی کا حکم لیتا ہے۔چنانچہ وارث بننے یا محروم ہونے میں وارث کے واسطے والا وارث ہے اور غیر وارث کے واسطے والا وارث نہیں ہے،مثلاً:ایک شخص فوت ہو گیا اور پوتی کی بیٹی اور نواسے کا بیٹا چھوڑ گیا۔توکل مال پوتی کی بیٹی لے گی۔نواسے کا بیٹا محروم ہے،اس لیے کہ یہ دونوں اگرچہ درجہ میں برابر ہیں کہ ہر ایک میت تک دو واسطوں سے مل جاتا ہے مگر پوتی کی بیٹی وارث کی اولاد ہے،لہٰذا وہ وارث ہے اور نواسے کا بیٹا چونکہ غیر وارث کی اولاد ہے،لہٰذا وہ محروم ہے،اس لیے کہ پوتی وارث ہے اور نواسہ وارث نہیں ہے۔ باب:8 قسم اور نذر کا بیان قسم کا بیان: ٭ قسم کی تعریف: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے’ ’اسمائے حسنیٰ‘‘ اور صفات کی قسم اٹھانا یمین اور حلف کہلاتا ہے،جیسا کہ کوئی یہ کہے ’’اللہ کی قسم میں یہ کام ضرور کروں گا۔‘‘یا ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔‘‘ یا ’’قسم ہے اس ذات کی جو دلوں کو بدلنے والا ہے‘‘ وغیرہ۔ ٭ جائز اور ناجائز قسمیں: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ناموں کی قسم اٹھانا جائز ہے،اس لیے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل قسمیں ثابت ہیں۔’’اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح یہ بھی ثابت ہے ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے اللہ کی عزت و غلبے کی قسم اٹھاتے ہوئے کہا: ((فَوَعِزَّتِکَ!لَا یَسْمَعُ بِھَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَھَا)) ’’تیری عزت و عظمت کی قسم ہے جو بھی اس بہشت کا سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا۔‘‘[1] [1] [حسن] جامع الترمذي، صفۃ الجنۃ،باب ما جاء حفت الجنۃ بالمکارہ:، حدیث: 2560، وسنن أبي داود، السنۃ، 7 باب في خلق الجنۃ والنار، حدیث: 4744۔