کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 646
نسبت تخالف ہوئی۔ایک کو دوسری تصحیح کامل میں ضرب دی تو چھ حاصل ہوئے۔یہ عدد جامعہ تصحیح قرار پایا۔بیٹے کو دو تصحیحوں سے مجموعی طور پر تین ملے،جو جامعہ تصحیح میں درج کر دیے اور خنثیٰ کو مجموعی طور پردو ملے جو جامعہ تصحیح میں درج ہوئے۔باقی ایک سہم خنثیٰ کا حال واضح ہونے تک موقوف ہو گیا۔اگر مذکر کی علامات نمایاں ہو گئیں تو یہ تین اسے ہی مل جائیں گے اور اگر مؤنث قرار پایا تو ایک سہم(حصہ)بیٹے کو مل جائے گا۔اگر کوئی اشکال ہوا تو باہم رضامندی سے مکمل کرکے تقسیم کریں گے۔اس مثال کے حل میں ایک باقی بچ گیا کیونکہ جامعہ تصحیح چھ ہے اور کل تقسیم شدہ سہام(حصے)پانچ ہیں،چنانچہ ایک حصہ کشف حال تک محفوظ رہے گا۔ 2 3 6 بیٹا 1 2 3 خنثیٰ 1 1 2 حمل،مفقود(گم شدہ)غرق شدہ،اور دیگر حادثات میں ہلاک شدگان کی وراثت کا بیان ٭ حمل کی وراثت کا بیان: ورثاء اگر تقسیم مؤخر کر دیں اور وضع حمل کے بعد تقسیم جائیداد کریں تو انھیں اس کا اختیار حاصل ہے اور اگر جلدی تقسیم کرنا چاہیں تو ورثاء کو(جو حمل کے لڑکا یا لڑکی ہونے کی صورت میں متاثر ہو سکتے ہیں)ان کا کم تر یقینی حصہ دیا جائے گا۔باقی حصہ موقوف ہو گا اور اس بارے میں خنثیٰ کے مسئلہ کا طریق عمل اپنایا جائے گا اور باقی کو موقوف قرار دیا جائے گا۔وضع حمل کے بعد حسب استحقاق ادائیگی ہو جائے گی۔اس کی مثال حسب ذیل ہے: ایک شخص فوت ہو گیا اور ایک حاملہ بیوی چھوڑ گیا(اور کوئی اولاد نہیں)۔حمل کے زندہ پیدا ہونے کی صورت میں وہ آٹھویں حصہ کی مالک ہے،اور مردہ پیدا ہونے کی صورت میں چوتھائی کی حق دار ہے۔اب اسے آٹھواں حصہ جو یقینی ہے،دیا جائے گا اور صورت حال کے واضح ہونے پر باقی موقوف کا فیصلہ ہو گا۔اگر اس عورت نے زندہ بچے کو جنم دیا تو اس صورت میں اسے مزید کچھ نہیں دیا جائے گا اور اگر مردہ بچے کو جنم دیا تو اسے کل میراث کا چوتھائی حصہ مکمل دیا جائے گا جو اولاد نہ ہونے کی صورت میں اس کا حق بنتا تھا۔ ٭ گم شدہ وارث: اگر کوئی شخص مر جائے اور ورثاء میں سے کوئی ایک وارث گم ہے اور ورثاء گم شدہ کی موت یا زندگی کے یقین ہونے سے پہلے جائیداد تقسیم کرنا چاہیں تو انھیں کم تر یقینی حصہ دیا جائے گا،جیسا کہ حمل میں ہوا تھا اور باقی مفقود کی موت یا زندگی کے فیصلہ کے بعد مستحقین کو حسب استحقاق دیا جائے گا۔اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص فوت ہو گیا اور دو بیٹے چھوڑ گیا،ان میں سے ایک غائب ہے۔موجود بیٹا فی الحال اپنا حصہ نصف ترکہ لے گا اور باقی موقوف ہو گا۔مفقود کی موت یا زندگی کے تحقق کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔