کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 643
ملاحظہ:یہاں ’’ت‘‘ سے مراد فوت شدہ شخص ہوتا ہے۔ اگر میت ثانی کے سہام اس کے مسئلہ کے مطابق ورثاء پر پورے پورے تقسیم نہ ہوں اور نسبت توافق ہو تو سہام کا وفق لے کر جامعہ فریضہ کے اوپر درج کرو اور مسئلہ ثانیہ کا وفق لے کر مسئلہ اولیٰ کے اوپر لکھو اور اس میں ضرب دو۔حاصل ضرب جامعہ اخیرہ میں رکھو،جو جامعہ مناسخہ ہے،پھر ہر وارث کے ہاتھ میں جو ہے اس کو مسئلہ اولیٰ کے اوپر درج شدہ وفق میں ضرب دو۔حاصل ضرب کو اس کے سامنے جامعہ مناسخہ کے تحت درج کرو اور اگر اس کو مسئلہ ثانیہ میں سے کچھ ملا ہے تو اسے مسئلہ ثانیہ کے اوپر درج شدہ وفق میں ضرب دو۔حاصل ضرب میں مسئلہ اولیٰ سے ملنے والے سہام بھی جمع کر لو،اور اسے(مجموعہ کو)جامعہ مناسخہ میں درج کرو،یہ اس وارث کا حصہ ہے۔ ایک شخص بیوی،بیٹی اور سگی بہن چھوڑ گیا،پھر بیٹی فوت ہو گئی،وہ اپنی والدہ(جو میت اول کی بیوی ہے)خاوند اور بیٹا چھوڑ گئی۔صورت مسئلہ درج ذیل ہے: وضاحت:اس مثال میں مسئلہ اولیٰ آٹھ سے بنا،جبکہ مسئلہ ثانیہ بارہ سے بنا۔میت ثانی کو چارسہام ملے۔اس کے سہام(چار)اور مسئلہ ثانی(12)کے درمیان توافق بالربع ہے۔لہٰذا سہام کا وفق،یعنی ایک،مسئلہ ثانیہ کے اوپر درج کیا،اور مسئلہ ثانی کا وفق(تین)مسئلہ اولیٰ کے اوپر درج کیا۔باقی عمل حسب سابق ہوا۔ 3 1 8 12 24 بیوی 1 ماں 2 5 بیٹی 4 ت . بہن 3 09 خاوند 3 03 03 بیٹا 7 07 اگر میت ثانی کے سہام کی اس کے مسئلہ سے نسبت تخالف ہو تو کل سہام کو مسئلہ ثانیہ کے اوپر درج کرو اور مسئلہ ثانیہ کا عدد مسئلہ اولیٰ کے اوپر رکھو اور اس میں ضرب دو۔حاصل ضرب کو مسئلہ ثانیہ کے بعد والے جامعہ مناسخہ میں لکھ دو۔اس طرح حسب سابق پورا پورا عمل کرو،مثلاً:ایک شخص بیوی،تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ کر مر گیا،ترکہ کی تقسیم سے قبل اس کی بیوی اپنے مذکور تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ کر انتقال کر گئی۔صورت مسئلہ درج ذیل ہے(:ٹیبل:20)