کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 637
کیا اور اصل مسئلہ کے ساتھ ضرب دی تو ایک اور جامعہ(جامعۃ التصحیح)حاصل ہوا،جسے اگلے خانہ میں درج کیا اور اس کے مطابق تقسیم کر دی،یہ عدد رؤوس میں تماثل کی مثال تھی۔صورت مسئلہ درج ذیل نقشہ میں ملاحظہ فرمائیں(:ٹیبل نمبر:8)نسبت تماثل کی مثال) اصل مسئلہ 4:4:عدد رؤوس مثبتہ:2 عدد رؤوس مثبتہ:2 2 اصل مسئلہ:8=2x4 بیوی 1 1 بیوی 1 بھائی 3 3 بھائی 3 اعداد رؤوس میں تداخل اور تخالف کی مثال کہ ایک شخص فوت ہو گیا اور چار بیویاں،تین بیٹیاں اور دو بہنیں چھوڑ گیا اس صورت مسئلہ میں تینوں فریق پر کسر واقع ہے اور ہر فریق اپنے سہام سے نسبت تخالف رکھتا ہے،پس ہر فریق کا عدد رؤوس محفوظ ہوا اور ساتھ ہی درج ہوا۔پھر ان میں باہمی نسبت دیکھی گئی تو دو اور چار میں تداخل ہوئی۔لہٰذا بڑے عدد چار پر اکتفا کیا۔پھر چار اور تین میں نسبت تخالف پائی تو ایک کامل عدد کو دوسرے کامل عدد میں ضرب دی،یعنی تین کو چار سے ضرب دی تو حاصل ضرب بارہ ہوئے،جسے اصل مسئلہ کے اوپر درج کیا،پھر بارہ کو اصل مسئلہ سے ضرب دی تو دو سو اٹھاسی(288)ہوئے اسے(جامعۃ التصحیح)میں الگ طور پر لکھا اور پھر حسب سابق تقسیم کی گئی۔صورت مسئلہ یہ ہے:ٹیبل:9 اصل مسئلہ:24 12 بیوی 9 اصل مسئلہ:24 بیٹی 16 64 24x 24 = 288 بیٹی 64 بیوی 3 9 بیٹی 64 بیوی 9 حقیقی بہن 5 30 بیوی 9 حقیقی بہن 30