کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 618
بچے کی مصلحت کو ہی مدنظر رکھے،اس لیے کہ’’حضانت‘‘ میں شارع علیہ السلام کا اصل مقصودصرف اور صرف بچے کی حفاظت ہے۔ باب:7 وراثت کا بیان وراثت کا حکم: مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے کا وارث ہونا کتاب و سنت سے ثابت ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا﴾ ’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس مال میں جو ماں باپ اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں،(یہ چھوڑا ہوا مال)تھوڑا ہو یا زیادہ،اس میں ہر ایک کا مقرر کیا ہوا حصہ ہے۔‘‘[1] اور فرمایا:﴿يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ ’’اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِھَا،فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ)) ’’مقررہ حصے ان کے مستحقوں کو دو اور جو باقی بچے وہ(میت کے)قریب ترین مرد(رشتے دار)کا حصہ ہے۔‘‘[3] مزید ارشاد فرمایا:((إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَعْطٰی کُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّہُ،فَلَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ)) ’’اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے،بنا بریں وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔‘‘٭[4] وراثت کے اسباب: تین اسباب وراثت میں سے کسی ایک کی وجہ سے انسان کسی دوسرے کا وارث بن سکتا ہے،اور وہ یہ ہیں: ٭ کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے وارث رشتہ دار کو تہائی یا اس سے کم مال دینے کی وصیت کرے اِ لاَّیہ کہ باقی ورثاء اس کی اجازت دیں اوروہ اجازت دینے کے اہل بھی ہوں واللہ اعلم(ع،ر) [1] النسآء 7:4۔ [2] النسآء 11:4۔یعنی والدین میں سے کوئی ایک وفات پا جائے تو اس کے ترکہ میں سے ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے حصے کے برابر ہوگا۔(ع،ر) [3] صحیح البخاري، الفرائض،باب میراث الولد من أبیہ وأمہ، حدیث: 6732، وصحیح مسلم، الفرائض، باب ألحقوا الفرائض بأھلھا:، حدیث: 1615۔ [4] [حسن] سنن أبي داود، الوصایا، باب ما جاء في الوصیۃ للوارث، حدیث: 2870، اسے امام ترمذی نے حسن کہا ہے۔