کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 612
’’جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لا چکی ہے،اس کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حلال نہیں ہے،البتہ اپنے خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔‘‘[1] نیز ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:((کُنَّا نُنْھٰی أَنْ نُّحِدَّ عَلٰی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلٰی زَوْجٍ أَرْبَعَۃَ أَشْھُرٍ وَّعَشْرًا،وَلَا نَکْتَحِلَ وَلَا نَطَّیَّبَ وَلَا نَلْبَسَ ثَوْبًا مَّصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ)) ’’ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ ہم کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں،البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن کا سوگ ہے اور یہ(حکم دیا گیاکہ)دوران عدت ہم سرمہ نہ ڈالیں،اور نہ ہم خوشبو لگائیں اور یمنی لکیر دار چادروں کے سوا رنگے ہوئے کپڑے بھی نہ پہنیں۔‘‘[2] عدت والی عورت دوران عدت اپنے گھر سے باہر نہ جائے،اگر کسی ضروری کام کے لیے جانا پڑ جائے تو رات اپنے گھر ہی میں آ کر رہے،جہاں خاوند کے فوت ہوتے وقت یہ تھی،اس لیے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاوند کی وفات کے بعد وہاں سے اپنے میکے جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ((اُمْکُثِي فِي بَیْتِکِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ)) ’’جس گھر میں تجھے اپنے خاوند کی موت کی خبر آئی،اسی میں رہ،یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔‘‘[3] چنانچہ صحابیہ رضی اللہ عنہا نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن کی عدت پوری کی۔ نفقات کا بیان: ٭ نفقہ کی تعریف: اس طعام و لباس اور رہائش کو نفقہ کہتے ہیں جو کسی مستحق کے لیے دینا ضروری ہو۔کن لوگوں پر اور کن کے لیے واجب ہے۔چھ قسم کے لوگ نفقہ کے مستحق ہوتے ہیں: 1: بیوی کا نفقہ خاوند پر ہوتا ہے جبکہ اس کے نکاح میں ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’أَلَا!وَحَقُّھُنَّ عَلَیْکُم أَنْ تُحْسِنُوا إِلَیْھِنَّ فِي کِسْوَتِھِنَّ وَطَعَامِھِنَّ‘’’خبردار!عورتوں کا حق تمھارے اوپر یہ ہے کہ لباس اور طعام میں ان کے ساتھ اچھا رویہ اپناؤ۔‘‘[4] 2: مطلقہ بائنہ اگر حاملہ ہے تو ایام عدت کا نفقہ خاوند پر ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ ’’اور وہ اگر حمل والیاں ہیں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کرو۔‘‘[5] [1] صحیح البخاري، الجنائز، باب إحداد المرأۃ علٰی غیر زوجہا، حدیث: 1280، وصحیح مسلم، الطلاق، باب وجوب الإحداد، حدیث: 1486 واللفظ لہ۔ [2] صحیح البخاري، الطلاق، باب القسط للحادۃ عند الطھر، حدیث: 5341۔ [3] [صحیح]جامع الترمذي، الطلاق، باب ماجاء أین تعتد المتوفٰی عنھا زوجھا، حدیث: 1204، اسے امام ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [4] [صحیح ] جامع الترمذي، الرضاع، باب ماجاء في حق المرأۃ علٰی زوجھا، حدیث: 1163۔ [5] الطلاق 6:65۔