کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 605
کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔اس کے بعد اگر عورت جرم کا اقرار کر لیتی ہے تو اس پر(رجم کی شرعی)حد نافذ کی جائے گی اور اگر اس سے انکاری ہو تو بایں الفاظ چار بار گواہیاں پیش کرے گی: ’’مجھے اللہ کی قسم!میں شہادت دیتی ہوں کہ اس نے مجھے زنا کرتے نہیں دیکھا یا یہ کہ یہ حمل اسی کا ہے اور پانچویں بار کہے گی کہ اگر یہ مرد اپنے دعوے میں سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو،اس کے بعد حاکم ان دونوں کے مابین تفریق کرا دے گا اور یہ پھر کبھی اکٹھے نہیں رہ سکیں گے۔ ٭ لعان کا حکم: شریعت اسلامیہ میں لعان ثابت ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللّٰهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ﴿٦﴾وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ﴿٧﴾وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللّٰهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ﴿٨﴾وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ ’’اور جو اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا گواہ نہیں ہیں تو ان میں سے ایک چار بار قسم کے ساتھ گواہی دے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو اور عورت سے سزا اس طرح دور ہو گی کہ وہ چار بار اللہ کی قسم اٹھا کر شہادت دے کہ یہ مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ کہ اگر یہ سچ بولنے والوں میں سے ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب ہو۔‘‘[1] اور اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویمر عجلانی اور اس کی بیوی کے مابین لعان کرایا تھا اور اسی طرح ہلال بن امیہ اور اس کی بیوی کے مابین بھی لعان ہوا تھا(رضی اللہ عنہم)۔[2] اور سہل بن سعد فرماتے ہیں:((فَمَضَتِ السُنَّۃُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَیْنِ أَنْ یُفَرَّقَ بَیْنَھُمَا ثُمَّ لَا یَجْتَمِعَانِ أَبَدًا)) ’’اس کے بعد دو لعان کرنے والوں میں یہ طریقہ جاری ہو گیا کہ انھیں جدا کر دیا جائے اور پھر کبھی وہ اکٹھے نہیں ہوں گے۔‘‘[3] ٭ لعان کی حکمت: 1: اس میں زوجین کی عزت کا تحفظ اور مسلمان کی تکریم ہے(کیونکہ شرعًا لوگ باتیں نہیں بناسکتے۔) 2: خاوند سے حد قذف ساقط ہو جاتی ہے اور عورت سے حد زنا۔ 3: حمل اگر واقعتا دوسرے(غیر خاوند)کا ہے تو اس کے انکار کی قانونی گنجائش نکل آتی ہے۔ [1] النور 9-6:24۔ [2] صحیح البخاري، الطلاق، باب یبدأ الرجل بالتلاعن وباب اللعان ومن طلق بعد اللعان، حدیث: 5307 , 5308۔ [3] [ضعیف] سنن أبي داود، الطلاق، باب في اللعان، حدیث: 2250، اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا کوئی شاہد بھی صحیح نہیں ہے جبکہ امام البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔ آپ نے لعان کرنے والوں سے فرمایا:’’تمھارا حساب اللہ پر ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے (اور اے خاوند!)تیرے لیے اس پر کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘ صحیح البخاري، الطلاق،باب قول الإمام للمتلاعنین:، حدیث: 5312 واللّٰہ أعلم۔