کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 601
خلع کا بیان: ٭ خلع کی تعریف: عورت کا کسی و جہ سے اپنے خاوند کو پسند نہ کرنا اور اس کا مال(حق مہر وغیرہ)واپس کر کے اس سے خلاصی حاصل کر لینا ’’خلع‘‘ کہلاتا ہے۔ ٭ خلع کا حکم: اگر(درج ذیل)شرطیں پوری کر لی جائیں تو خلع جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی سے جو اپنے خاوند کے بارے میں کہہ رہی تھی:مجھے اس کی عادات اور دین پر کوئی اعتراض نہیں ہے،میں اسلام میں(خاوند کی)نافرمانی کو درست نہیں سمجھتی،کے جواب میں فرمایا:’’تو اس کا باغ واپس کر دے گی۔‘‘ اس نے کہا:ہاں،آپ نے فرمایا:’’ثابت!باغ لے لو اور اس کو ایک طلاق دے دو۔‘‘٭[1] ٭ خلع کے جواز کی شرط: 1: ناپسندیدگی کا اظہار عورت کی طرف سے ہو،اگر مرد ناپسند کرتا ہے تو اس کے لیے طلاق کا معاوضہ لینا جائز نہیں ہے بلکہ اسے صبر کرنا چاہیے اور اگر برداشت سے باہر ہے تو طلاق دے دے۔ 2: عورت اس وقت تک ’’خلع‘‘ کا مطالبہ نہ کرے جب تک اس کی کراہت و ناپسندیدگی اس حد تک نہ پہنچ جائے کہ حقوق زوجیت میں اللہ کی حدود کی پابندی کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے۔ 3: مرد جان بوجھ کر اگر عورت کو تنگ کر رہا ہے کہ وہ خلع پر مجبور ہو جائے تو ایسی صورت میں اس کے لیے اس سے معاوضہ لینا حرام ہے اور وہ اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہے،نیز خلع سے ایک ’’طلاق بائن‘‘ نافذ ہوتی ہے اور ’’عقد جدید‘‘ کے بغیر وہ رجوع نہیں کر سکتا۔٭ ٭ خلع کے احکام: 1: مرد دیے ہوئے مہر سے زیادہ وصول نہ کرے،جیسا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے خلع کے عوض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صرف وہ باغ لیا تھاجو انھوں نے مہر میں دیا تھا۔ 2: اگر خلع میں لفظ خلع مرد نے بولا ہے یا تحریر کیا ہے تو ’’استبرائے رحم‘‘ کے طور پر عدت ایک ماہواری آنے تک ہے،جیسا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہواری تک عدت گزارنے کا حکم دیا تھا اور اگر طلاق کا لفظ استعمال ہوا ہے تو جمہور تین حیض(طلاق کی پوری)عدت گزارنے کے قائل ہیں۔ 3: خلع دینے والا عدت کے اندر رجوع کا مالک نہیں ہے،اس لیے کہ محض خلع سے عورت بائن(جدا)ہو گئی ہے،نئے نکاح کے بغیر وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔ ٭ یعنی ’’وہ دیندار اور اچھے اخلاق کا مالک ہے مگر خوبصورت نہیں،بجائے اس کے کہ میں اس کی نافرمانی کروں،بہتر ہے کہ اس سے الگ ہو جاؤں۔‘‘(محمد عبدالجبار) ٭ راجح یہی ہے کہ خلع فسخ نکاح ہے،طلاق نہیں اگر دوبارہ باہم ملنا چاہیں تو تجدید نکاح ضروری ہے۔ [1] صحیح البخاري، الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ:، حدیث: 5273۔