کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 596
ہیں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو طلاق سے رجوع کا حکم دیا تھا،جبکہ انھوں نے اپنی بیوی کو ایام حیض میں طلاق دے دی تھی اور مزید فرمایا کہ’’انتظار کر یہاں تک کہ’ ’طہر‘‘ کے بعد حیض آئے اور پھر پاک ہو تو پھر اگر تو چاہے تو طلاق دے یا اپنے پاس رکھ۔‘‘ اور اسی موقع پر فرمایا: ((فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِي أَمَرَ اللّٰہُ سُبْحَانَہُ أَنْ تُطَلَّقَ لَھَا النِّسَائُ)) ’’یہی وہ عدت ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے(سورئہ طلاق میں۔‘‘)[1] نیز آپ کو اطلاع ملی کہ ایک شخص نے ایک ہی کلمے میں اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دی ہیں،یعنی کہا:’’تجھے تین طلاقیں ‘‘ تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: ((أَیُلْعَبُ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَأَنَا بَیْنَ أَظْھُرِ کُمْ؟))’’میں تمھارے اندر موجود ہوں اور اللہ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے۔‘‘[2] جمہور علماء کے نزدیک طلاق مسنون کی طرح طلاق بدعی بھی واقع ہو جاتی ہے اور رشتۂ ازدواج ختم ہو جاتا ہے،البتہ خاوند گنہگار ہو گا کیونکہ اس نے سنت کی مخالفت کی ہے۔ 3:طلاق بائن: یہ وہ طلاق ہے جس میں طلاق دینے والے کو رجوع کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،البتہ نئے ’’مہر‘‘ اور ’’شرائط‘‘ کے تحت عقد جدید کر سکتا ہے،عورت کی مرضی ہے چاہے تو اسے قبول کرے یا رد کر دے۔درج ذیل پانچ صورتوں میں طلاق بائن واقع ہوتی ہے: ٭ مرد نے ’’طلاق رجعی‘‘دی ہے اور عدت کے اندر رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے کے بعد طلاق بائن ہو جاتی ہے۔ ٭ مرد نے عورت سے مال وصول کر کے ’’خلع‘‘ کی صورت میں(عورت کے مطالبے پر)طلاق دی ہے۔ ٭ اگر ان کے مابین دونوں میاں بیوی کے منصفوں نے طلاق دی ہے،جبکہ وہ محسوس کرتے ہوں کہ طلاق،نکاح کے باقی رہنے سے زیادہ بہتر ہے۔ ٭ رخصتی کے بعد اور جماع سے پہلے طلاق واقع ہو جائے،اس لیے کہ مجامعت سے پہلے مطلقہ پر عدت نہیں ہے۔محض ’’وقوع طلاق‘‘سے وہ بائن(جدا)ہو جائے گی۔ ٭ مختلف مجالس میں تین طلاقیں دے،٭ یا مختلف مواقع پر پہلے سے واقع کردہ دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق ٭ خاوند اگر کہے ’’تجھے تین طلاقیں ‘‘یا کہے ’’تجھے طلاق،طلاق،طلاق‘‘تو اس سے میاں بیوی کے درمیان بڑی جدائی واقع نہیں ہوگی کیونکہ یہ ایک ہی طلاق ہے،اس لیے کہ تین طلاقوں سے مراد تین دفعہ طلاق دینا ہے اس طرح کہ ہر دفعہ کے بعد سوچ و بچار کے بعد رجوع کرنے یا نہ کرنے کا کھلا موقعہ ملے جبکہ ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دینے سے نہ صرف شریعت کا مقصد فوت ہو جاتاہے بلکہ میاں بیوی بھی لاعلمی کی وجہ سے پچھتاتے رہتے ہیں۔(ع،ر) [1] صحیح البخاري، الطلاق، باب وقول اللّٰہ تعالٰی﴿ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ﴾، حدیث: 5251، صحیح مسلم، الطلاق، باب تحریم طلاق الحائض، حدیث: ( 1471)۔ [2] [صحیح] السنن الکبرٰی للنسائي: 349/3۔