کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 591
البتہ رضاعت دو سال کی عمر کے اندر دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔جب حقیقتاً دودھ بچے کے پیٹ میں گیا ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّۃُ وَالْمَصَّتَانِ))’’ایک یا دو مرتبہ دودھ چوسنے سے حرمت واقع نہیں ہوتی۔‘‘[1] اس لیے کہ ایک دفعہ چوسنا تو معمولی ہے،قلت کی وجہ سے بعض دفعہ دودھ پیٹ تک نہیں جا سکتا۔ ٭ رضاعت کے ضروری مسائل: دودھ پلانے والی کا خاوند دودھ پینے والے کا باپ قرار پائے گا اور اگر اس کی دوسری بیوی ہے اور اس سے اس کی اولاد بھی ہے تو وہ بھی اس بچے کے بھائی بہن قرار پائیں گے۔بنا بریں اس دودھ پینے والے بچے پر رضاعی باپ کی مائیں،بہنیں،بیٹیاں،پھوپھیاں،خالائیں سب حرام ہو جائیں گی۔اسی طرح دودھ پلانے والی کی ساری اولاد جس خاوند سے بھی ہو،دودھ پینے والے بچے کے بھائی بہن بن جائیں گے،اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا تھا:’اِئْذَنِي لَہُ فَإِنَّہُ عَمُّکِ‘ ’’(اے عائشہ!)(ابوالقعیس کے بھائی افلح کوگھر کے اندر آنے کی)اجازت دے دے،اس لیے کہ یہ تیرا چچا ہے۔‘‘ اور(راوی کہتا ہے کہ)ابوالقعیس کی بیوی نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو دودھ پلایا تھا۔[2] اس حدیث سے ’’رضاعی چچا‘‘ثابت ہوا ہے،لہٰذا مذکورہ بالا دیگر رشتے اس کے تابع ہوں گے۔ دودھ پینے والے بچے کے بھائیوں اور بہنوں کے لیے ’’حرمت رضاعت‘‘ ثابت نہیں ہو گی،اس لیے کہ انھوں نے دودھ نہیں پیا،چنانچہ دودھ پینے والے کا بھائی دودھ پلانے والی یا اس کی ماں یا اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے،اسی طرح بچے کی بہن دودھ پلانے والی کے خاوند یا اس کے باپ اور بیٹے سے نکاح کر سکتی ہے۔ کیا رضاعی بیٹے کی بیوی رضاعی باپ کے لیے حرام ہے؟ جمہور علماء کے نزدیک حرمت ثابت ہے،جس طرح کہ ’’صلبی بیٹے‘‘کی بیوی اپنے سسر کے لیے حرام ہے اور بعض اس کے قائل نہیں ہیں،اس لیے کہ ان کے نزدیک ’’رضاع‘‘ سے وہی رشتے حرام ہیں جو ’’نسب‘‘کی وجہ سے حرام ہیں،جبکہ بیٹے کی بیوی اپنے سسر کے لیے نسبی تعلق کی وجہ سے نہیں بلکہ بہو ہونے کی بنا پر حرام ہے۔[3] 4:لعان کی و جہ سے محرمات::مرد کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہے کہ وہ اس عورت سے نکاح کرے جس سے وہ لعان کر چکا ہے کیونکہ صحابیٔ رسول سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [1] صحیح مسلم، الرضاع،باب في المصۃ والمصتان،حدیث: 1450۔ [2] صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ﴿ إِن تُبْدُوا شَيْئًا ﴾، حدیث: 4796، وصحیح مسلم، الرضاع،باب تحریم الرضاعۃ من ماء الفحل، حدیث: 1445۔ [3] یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ دودھ بیٹے نے پیا تھا نہ کہ اس کی بیوی نے۔ (ع،ر)