کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 590
﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ﴾ ’’تمھاری مائیں،تمھاری بیٹیاں،تمھاری بہنیں،تمھاری پھوپھیاں،تمھاری خالائیں،بھتیجیاں اور بھانجیاں تمھارے لیے حرام کر دی گئی ہیں۔‘‘[1] 2: مصاہرت کی بنا پر محرمات::ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ باپ یا دادا نے نکاح کیا ہو۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾ ’’جن عورتوں سے تمھارے آباء اجدادنے نکاح کیا ہے،ان سے نکاح نہ کرو۔‘‘[2] اسی طرح بیوی کی ماں اور اس کی دادی،نانی اور ’’مدخولہ بیوی‘‘(جس سے جماع کیا گیا ہو)کی بیٹی بھی حرام ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ﴾ ’’اور تمھاری بیویوں کی مائیں اور اپنی جن عورتوں سے تم جماع کر چکے ہو،ان کی وہ لڑکیاں جو پہلے خاوندوں سے ہیں(اور اب تم ان کی پرورش کرتے ہو،بھی تمھارے لیے حرام ہیں)اور اگر تم نے ان عورتوں سے جماع نہیں کیا تو(انھیں طلاق دے کر)ان کی بیٹی سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘[3] اور اسی طرح بیٹے اور پوتے کی بیوی بھی حرام ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ ’’اور تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام کی گئی ہیں۔‘‘[4] رضاعت کی بنیاد پر محرمات: دودھ پینے کی وجہ سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام تھے٭،یعنی بچے کے رضاعی والدین کی مائیں،بیٹیاں،بہنیں،پھوپھیاں،خالائیں،بھتیجیاں اور بھانجیاں(اس کے نکاح میں نہیں آسکتیں)اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔((یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَۃِ)) ’’دودھ پینے سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام تھے۔‘‘[5] ٭ جب بچہ اپنی والدہ کے علاوہ کسی اور خاتون کا کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پیتا ہے تو دودھ پلانے والی خاتون اس کی رضاعی ماں اور اس کا خاوند اس کا رضاعی باپ بن جاتا ہے جبکہ بچہ ان کا رضاعی بیٹا کہلاتا ہے۔(ع،ر)اگر اس نے دودھ پینا شروع کیا اور اپنی مرضی سے بغیر کسی عارض کے،سیر ہونے کے بعد چھاتی چھوڑ دی تو یہ ایک دفعہ ہے اگر پھر ایسے کرتا ہے تو یہ دوسری دفعہ شمار ہو گی۔(محمد عبدالجبار) [1] النسآء 23:4۔ [2] النسآء 22:4۔ [3] النسآء 23:4۔ [4] النسآء 23:4۔ [5] صحیح البخاري، النکاح، باب ما یحل من الدخول والنظر إلَی النساء في الرضاع، حدیث: 5239، وصحیح مسلم، الرضاع،باب یحرم من الرضاعۃ مایحرم من الولادۃ، حدیث: 1444۔