کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 588
5: ایام عدت میں نکاح:عورت طلاق یا خاوند کی وفات کی ’’عدت‘‘میں ہو تو اس سے نکاح کرنا باطل ہے،البتہ اگر کسی نے اس حالت میں نکاح کر لیا ہے تو ’’عقد‘‘ باطل ہونے کی بنا پر دونوں کے درمیان تفریق لازم ہے اور اگر خلوت ہو گئی ہے تو عورت کے لیے مہر ثابت ہو گیا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ﴾’’اور جب تک عدت پوری نہ ہو نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرو۔‘‘[1] 6:ولی کے بغیر نکاح: ولی کی اجازت کے بغیر عورت اگر کسی مرد کے ساتھ نکاح کر لیتی ہے تو یہ نکاح باطل ہے،اس لیے کہ ’’ولی‘‘کا ہونا نکاح کے ارکان میں سے ایک رکن ہے،جس کے فقدان سے نکاح نہیں ہوتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا نِکَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ‘ ’’ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔‘‘[2] ان کے درمیان تفریق کر دینی چاہیے،اگر ملاپ ہوا ہے تو عورت کو مہر ملے گا اور ایک حیض سے ’’استبرائے رحم‘‘٭ کے بعد اگر ولی کی اجازت عورت کو حاصل ہو جائے تو اس مرد سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔ 7: غیر کتابیہ کا فرہ سے نکاح: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ﴾’’مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔‘‘[3] بنا بریں مسلمان کسی مجوسی،سیکولر اور بت پرست عورت کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا،جبکہ مسلمان عورت کا علی الاطلاق کافر کے ساتھ نکاح حرام ہے،برابر ہے کہ وہ کافر اہل کتاب سے ہو یا غیر اہل کتاب سے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ ’’یہ(مسلمان)عورتیں ان(کافروں)کے لیے حلال نہیں اور نہ وہ(کافر مرد)ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘[4] تنبیہات: 1: کافر میاں بیوی میں سے اگر ایک اسلام قبول کر لیتا ہے تو نکاح باطل ہو جائے گا،عدت گزرنے سے پہلے اگر دوسرا بھی مسلمان ہو جائے تو دونوں پہلے نکاح پر قائم رہیں گے اور اگر عدت گزرنے کے بعد اسلام قبول کرے تو جمہور علماء کے نزدیک نیا نکاح ضروری ہے۔(اگر عورت کتابیہ ہے اوراس کا خاوند مسلمان ہوجاتا ہے تو ٭ حیض کی آمد اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا رحم حمل سے خالی ہے،اسی لیے حیض کے انتظار کو ’’استبرائے رحم‘‘سے تعبیر کیا گیا ہے۔(ع،ر) [1] البقرۃ 235:2۔ [2] سنن أبي داود، النکاح، باب في الولي، حدیث: 2085، و جامع الترمذي، النکاح، باب ماجاء لانکاح إلابولي، حدیث: 1102,1101، وسنن ابن ماجہ، النکاح، باب لانکاح إلابولي، حدیث: ,1880 1881، وصححہالحاکم: 172-169/2، وابن حبان: 391-389/9، حدیث: 4078,4077، یہ حدیث متواتر ہے، دیکھیے: قطف الأزہار المتناثرۃللسیوطي وغیرہ۔ [3] البقرۃ 221:2۔ [4] الممتحنۃ 10:60۔