کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 584
وقت شرط کر چکی ہو کہ سفر میں اس کے ساتھ نہیں جایا کرے گی۔٭ 4: جب بھی خاوند اسے جنسی تعلق(جماع)کے لیے بلائے تو خود کو اس کے سپرد کر دے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَہُ إِلٰی فِرَاشِہِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَیْھَا،لَعَنَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ حَتّٰی تُصْبِحَ)) ’’جب مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے اور مرد ناراضگی کے ساتھ رات گزارے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے ہیں۔‘‘[1] 5: اگر خاوند سفر میں نہیں تو عورت اس سے اجازت حاصل کر کے(نفلی)روزہ رکھے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے:((لَا یَحِلُّ لِلْمَرَأَۃِ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ إِلَّا بِإِذْنِہِ))’’عورت کے لیے خاوند کی موجودگی میں روزہ رکھنا،اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے۔‘‘[2] ٭ بیوی کی خاوند سے سرکشی اور ناچاقی: اگر عورت خاوند کی نافرمان ہو جائے اور اس کے حقوق ادا نہ کرے تو اسے زبانی سمجھائے،اگر اطاعت میں آ جائے تو بہتر،ورنہ مخصوص مدت تک خاوند الگ بستر بنا لے،تاہم ترک کلام تین دن سے زیادہ نہ کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا یَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ یَّھْجُرَ أَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ))’’کسی مومن کے لیے حلال نہیں کہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دنوں سے زیادہ کلام کرنا ترک کرے۔‘‘[3] اگر اس طرح وہ اطاعت قبول کر لے تو بہتر،ورنہ معمولی انداز سے مارے اور چہرے پر مارنے سے احتراز کرے۔اس کے بعد اطاعت قبول کر لے تو ٹھیک،ورنہ دو فیصل(فیصلہ کرنے والے)ایک مرد کے کنبے سے اور ایک عورت کے کنبے سے مقرر کریں،وہ الگ الگ ان سے مل کر اصلاح حال اور ان میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کریں،اگر ان کی کوشش اس کے باوجود بار آور نہیں ہوتی تو ان کے مابین ’’طلاق بائن‘‘ mکے ذریعے تفریق کرا دیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا﴿٣٤﴾وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾ ٭ اپنی ضرورت کے سفر میں تو اس کے ساتھ جائے گی مگر اس کے سفر میں اس کے ساتھ نہیں جائے گی۔(محمد عبدالجبار) ٭ طلاق بائن:یعنی میاں بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرنے والی طلاق جس کے بعد رجوع ناممکن ہو۔مذکورہ پنچایت کے کہنے پر خاوند جو طلاق دے گا وہ ’’بائن‘‘ متصور ہو گی۔واللہ اعلم۔(ع،ر) [1] صحیح البخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم: آمین:، حدیث: 3237، وصحیح مسلم، النکاح، باب تحریم امتناعھا من فراش زوجھا، حدیث: 1436۔ [2] صحیح البخاري، النکاح، باب لا تأذن المرأۃ في بیت زوجھا لأحد إلا بإذنہ، حدیث: 5195، وصحیح مسلم، الزکاۃ، باب ما أنفق العبد من مال مولاہ، حدیث: 1026۔ [3] صحیح البخاري، الاستئذان، باب السلام للمعرفۃ:، حدیث: 6237، و صحیح مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الہجر فوق ثلاثۃ أیام:، حدیث: 2560 واللفظ لہ۔