کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 582
إِلَّا فِي الْبَیْتِ)) ’’جب تو کھانا کھائے،اسے بھی کھلا،لباس پہنے تو اسے بھی پہنا،اور منہ پر نہ مار اور بددعا نہ دے اور اس سے علیحدگی اپنے گھرہی میں اختیار کر۔‘‘[1] 2: اس کا جنسی حق ادا کرے اور اگر عورت کی کفایت کو پورا نہیں کر سکتا تو بھی چار ماہ میں کم از کم ایک بار ضرور مجامعت کرے،چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌۚ﴾ ’’جن مردوں نے اپنی عورتوں سے ایلاء کیا ہے(ان سے جماع نہ کرنے کی قسم اٹھائی ہے)تو وہ(عورتیں)چار ماہ انتظار کریں،اگر رجوع کرتے ہیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘[2] 3: چار راتوں میں سے ایک رات ضرور،اس کے پاس رہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہی فیصلہ کیا تھا۔[3] 4: اگر خاوند کی کئی عورتیں ہیں تو ان میں عادلانہ تقسیم کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((مَنْ کَانتْ لَہُ امْرَأَتَانِ یَمِیلُ لإِحْدَاھُمَا عَلَی الْأُخْرٰی،جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ أَحَدُ شِقَّیْہِ سَاقِطٌ)) ’’جس کی دو بیویاں ہیں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف مائل ہو گیا ہے،(دوسری کو اس کے حقوق نہیں دیتا)قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا یا جھکا ہوا ہو گا۔‘‘[4] 5: نئی بیوی کے پاس اگر وہ کنواری ہے تو سات دن رہے اور اگر بیوہ ہے تو تین دن اور پھر سب میں(دنوں کی)تقسیم برابر کر دے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لِلْبِکْرِ سَبْعٌ،وَلِلثَّیِّبِ ثَلَاثٌ))’’کنواری کے لیے سات دن اور بیوہ کے لیے تین دن ہیں۔‘‘[5] 6: عورت کا کوئی رشتہ دار بیمار ہے تو اس کی عیادت کے لیے اور فوت ہونے کی صورت میں جنازہ پر جانے کے لیے اس کو اجازت دینا بہتر ہے۔اس کے علاوہ رشتہ داروں کی ملاقات کے لیے بھی عورت جا سکتی ہے مگر اس طور پر کہ خاوند کے مصالح کو نقصان نہ پہنچے۔ [1] [صحیح] مسند أحمد : 447,446/4، وسنن أبي داود، النکاح، باب فی حق المرأۃ علٰی زوجھا، حدیث: 2142، وسنن ابن ماجہ، النکاح، باب حق المرأۃ علَی الزوج، حدیث: 1850۔ یعنی ناراضی کی صورت میں اپنے گھر میں رہتے ہوئے اس سے الگ رہ کہیں اور نہ جا۔واللہ اعلم (ع،ر) [2] البقرۃ 226:2۔ [3] المصنف لعبد الرزاق : 149/7۔ [4] [صحیح ] جامع الترمذي، النکاح،باب ما جاء في التسویۃ بین الضرائر، حدیث: 1141، وسنن أبي داود، النکاح، باب في القسم بین النساء، حدیث: 2133، وسنن ابن ماجہ، النکاح، باب القسمۃ بین النساء، حدیث: 1969، وصحیح ابن حبان: 7/10، حدیث: 4207، ومسند أحمد: 347/2 واللفظ لہ۔ [5] صحیح مسلم، الرضاع،باب، قدر ما تستحقہ البکر والثیب:، حدیث: 1460۔