کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 581
غائب ہے اور اس کے پاس خرچ و لباس نہیں ہے اور نہ وہ کوئی مال چھوڑ کر گیا ہے جس میں سے وہ خرچ کر سکے اور کوئی دیگر بھی نفلی طور پر خرچ کرنے والا نہیں ہے اور نہ اس نے کوئی مال بھیجا ہے جس سے وہ خرچ کرے،نیز اس کے پاس اپنا مال بھی نہیں جس میں وہ گزارہ کر سکے اور مذکورہ گواہوں کی گواہی اس بارے میں سچی ہے،یہ اب تک اس خاوند کی اطاعت میں ہے اور فسخ نکاح پر ضرور تکلیف محسوس کرتی ہے۔ مذکورہ شہادت اور حلفیہ بیان کی بنیاد پر،جبکہ عورت نے صریح لفظوں میں فلاں خاوند سے ’’فسخ نکاح‘‘ کا کہا ہے،ہم اس کے اس سوال کو قبول کرتے ہیں اور اسے ایک رجعی طلاق گردانتے ہیں۔ مؤرخہ... 6:عورت اگر لونڈی ہے اور کسی غلام کی بیوی ہے تو آزاد ہونے کی صورت میں اسے ’’خیارعتق‘‘ حاصل ہو جاتا ہے۔یعنی آزاد ہونے کے بعد خاوند کے اس تک رسائی حاصل کرنے سے پہلے عورت چاہے تو نکاح فسخ کر سکتی ہے۔لیکن اگر اس عورت نے اپنی آزادی معلوم ہونے کے باوجود خاوند کو مجامعت کا موقع دے دیا تو یہ اختیار ختم ہو جائے گا،اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اور اس کا خاوند(مغیث)غلام تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا تھا،اگر یہ(مغیث)آزاد ہوتا تو اس کو اختیار نہ دیتے۔‘‘[1] حقوق زوجیت: ٭ بیوی کے خاوند پر حقوق: عورت کے لیے خاوند پر بہت حقوق ثابت ہوتے ہیں جن کی ادائیگی خاوند پر لازم ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ﴾ ’’اور دستور کے مطابق عورتوں کے لیے حقوق ہیں،جس طرح(خاوندوں کے لیے)ان پر حقوق ہیں۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّ لَکُمْ مِّنْ نِّسَائِکُمْ حَقًّا،وَلِنِسَائِکُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا‘ ’’تمھارے لیے تمھاری عورتوں پر حق ہے اور تمھاری عورتوں کے لیے تم پر حق ہے۔‘‘[3] اور یہ حقوق درج ذیل ہیں: 1: عورت کی خوراک،لباس اور رہائش دستور کے مطابق مرد کے ذمے ہے۔ایک شخص نے عورت کے مرد پر حقوق پوچھے تو آپ نے فرمایا: ((تُطْعِمُھَا إِذَا طَعِمْتَ،وَتَکْسُوھَا إِذَا اکْتَسَیْتَ،وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ،وَلَا تُقَبِّحْ،وَلَا تَھْجُرْ [1] صحیح مسلم، العتق،باب بیان أن الولاء لمن أعتق، حدیث: 1504۔ [2] البقرۃ 228:2۔ [3] [صحیح] جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ التوبۃ، حدیث: 3087، وسنن ابن ماجہ، النکاح، باب حق المرأۃ علَی الزوج، حدیث: 1851 واللفظ لہ۔