کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 579
’’جن شرطوں کے ساتھ تم نے شرم گاہوں کو حلال بنایا ہے انھیں پورا کرنا دیگر شرائط کی نسبت زیادہ ضروری ہے۔‘‘[1] البتہ عورت کا یہ شرط عائد کرنا کہ پہلی بیوی کو طلاق دے،حرام ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:((لَا یَحِلُّ أَنْ یَّنْکِحَ الْمَرْأَۃَ بِطَلَاقِ أُخْرٰی)) ’’دوسری(عورت)کی طلاق کی شرط پر،کسی عورت کے ساتھ نکاح حلال نہیں ہے۔‘‘[2] نیز فرمایا:((لَا یَحِلُّ لِاِمْرَأَۃٍ تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِھَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَھَا،فَإِنَّمَا لَھَا مَا قُدِّرَ لَھَا)) ’’کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی بہن(پہلی بیوی)کی طلاق کا سوال کرے تاکہ اس کا برتن خالی کرے،بے شک اس کے لیے ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔‘‘[3] ٭ نکاح میں اختیار اور اس کو واجب کرنے والی چیزیں: درج ذیل اسباب کی بنیاد پر مرد اور عورت دونوں کو اختیار ہے کہ زوجیت بحال رکھیں یا فسخ کر دیں۔ 1: عورت کو جنون،کوڑھ،پھلبہری یا شرم گاہ کی ایسی بیماری لاحق ہو جس سے ’’جماع کی لذت‘‘ فوت ہو جائے۔اسی طرح مرد کا خصی یا مجنون یا نامرد ہونا،جب وہ جماع کرنے کے قابل نہ رہے۔ مذکورہ اسباب کے نتیجے میں اگر فسخ نکاح کی نوبت آ گئی ہے اور فسخ،وطی(جماع)سے پہلے ہوا ہے تو مرد کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پیشگی دیا ہوا مہر واپس لے سکتا ہے لیکن اگر وطی کے بعد فسخ ہوا ہے تو پھر مہر کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔بعض علماء نے کہا ہے کہ جس نے خاوند کو دھوکا دیا ہے وہ مہر کی وصولی اس سے کرے،اگر اسے عیب کا علم تھا۔اس کی دلیل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ ہے: ((أَیُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَبِھَا جُنُونٌ أَوْجُذَامٌ أَوْبَرَصٌ فَمَسَّھَا فَلَھَا صَدَاقُھَا کَامِلًا وَذٰلِکَ لِزَوْجِھَا غُرْمٌ عَلٰی وَلِیِّھَا)) ’’مجنون یا مجذوم یا برص والی عورت کا اگر کسی نے دھوکے سے کسی کے ساتھ نکاح کرا دیا تو ملاپ کی بنا پر عورت کو ’’مہر‘‘ملے گا اور آدمی(دھوکے میں آ کر نکاح کرنے والے خاوند)کا تاوان(مہر)دھوکا باز ادا کرے گا۔‘‘[4] 2: دھوکے کے نتیجہ میں،مثلاً:ایک شخص نے یہ کہہ کر نکاح کیا کہ یہ عورت مسلمان ہے،جبکہ وہ غیر مسلم(یہودن یا [1] صحیح البخاري، الشروط،باب الشروط في المھرعند عقدۃ النکاح، حدیث: 2721، وصحیح مسلم، النکاح، باب الوفاء بالشروط في النکاح، حدیث: 1418 واللفظ لہ۔ [2] [ضعیف] مسند أحمد: 176/2 وفیہ نظر من أجل ابن لہیعۃ وانظر مجمع الزوائد: 81/4۔ [3] صحیح البخاري، النکاح، باب الشروط التي لاتحل في النکاح، حدیث: 5152، وصحیح مسلم، النکاح، باب تحریم الخطبۃ علٰی:، حدیث: 1413۔ [4] الموطأ للإمام مالک، النکاح، باب ماجاء في الصداق والحباء، حدیث: 1141۔