کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 565
فلاں وقف کرنے والے نے(اللہ اسے نیکی کی توفیق عطا کرے)اسے مذکورہ مقاصد کے لیے وقف کیا ہے اور ساتھ یہ بات ملحوظ رہے کہ اس ’’وقف‘‘ کا متولی و منتظم اس کی آمدنی میں سے اس کی آبادی،درستی اور اصلاح کرے گا تاکہ یہ دیرپا رہے اور وقف کنندہ کی غرض پوری ہوتی رہے اور جو آمدنی بچ جائے اسے درج ذیل مصارف پر جن کی تفصیل یہ ہے:خرچ کرے گا۔ہمیشہ کے لیے اس ’’وقف‘‘ کو اسی طرح استعمال کیا جائے۔نیز ’’متعینہ جہات‘‘ کے لیے خرچ منقطع ہونے کی صورت میں یہ ’’وقف‘‘ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے فقراء و مساکین کے لیے ہے۔ ’’واقف مذکور‘‘(وقف کرنے والے)نے تاحیات اس کی تولیت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول کر لی ہے،وہ اکیلا اس کام کو سرانجام دے گا اور کوئی اس میں مشارکت اور منازعت کا حق نہیں رکھتا۔اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ اس بارے میں وہ کسی کو وصیت کرے اور اختیار اس کے سپرد کر دے۔ ’’واقف مذکور‘‘ کی وفات کے بعد اس کا فلاں بیٹا متولی ہو گا یا اس کی اولاد میں جو معاملہ فہم،سوجھ بوجھ کا مالک ہو،متولی قرار پائے گا۔’’واقف مذکور‘‘ نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ اس جائیداد کو سال سے زیادہ کرائے پر نہ دیا جائے اور کرائے پر دینے والا اس وقت تک کسی سے نیا معاہدہ نہ کرے جب تک پہلے معاہدے کی مدت ختم نہ ہو اور یہ کہ کرایہ متولی و منتظم وصول کرے گا۔ اب یہ ’’وقف‘‘ ’’واقف‘‘ کی ملکیت سے خارج ہو گیا ہے اور ہمیشہ کے لیے ’’صدقہ جاریہ‘‘ شریعت اسلامیہ کے احکام کے مطابق قرار پایا ہے اور اس نے اپنا قبضہ ختم کر دیا ہے۔ ’’یہ پوری طرح ’’وقف‘‘ ہے اور اس پر ’’احکام وقف‘‘ لاگو ہیں۔کسی کے لیے جائز اور حلال نہیں کہ اپنے فتوے،یا فیصلے کے ذریعے سے اس ’’وقف‘‘ کو توڑ یا تبدیل کر سکے۔اگر کسی نے اس کو تباہ و برباد کرنا چاہا تو اللہ کی عدالت عالیہ میں اس کے خلاف استغاثہ دائر ہو گا اور اس وقت ظالموں کو معذرت فائدہ نہیں دے گی۔ان کے لیے لعنت ہو گی اور برا ٹھکانہ ان کا مقدر ہو گا۔ ’ ’واقف‘‘ اس بنیاد پر کہ وہ شرعًا وقف کرنے کا مجاز ہے مذکورہ بالا جملہ امور کو بقائمیِ ہوش و حواس اور کمال عقل و صحت و سلامتی شرعی طور پر قبول کر کے اس وقف نامے کو اپنے اوپر گواہ بناتا ہے۔تاریخ تحریر::: ہبہ کا بیان: ٭ ہبہ کی تعریف: کسی سمجھدار شخص کا اپنا مال و متاع کسی کو تبرعاً(نیکی کرتے ہوئے)دے دینا،جیسا کہ ایک مسلمان کسی کو مکان یا کپڑے یا طعام یا درہم و دینار ہبہ کر دے۔ ٭ ہبہ کا حکم: ’’ہبہ‘‘اور ’’ہدیہ‘‘ شرعًامستحب ہیں،اس لیے کہ یہ ایک ایسی نیکی ہے،جس کی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ترغیب دلائی ہے:﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾