کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 558
پاس اتنا سرمایہ نہیں ہے جس سے یہ قرض ادا کر سکے،لہٰذا اس کا موجودہ مال بقدر حِصَصْ ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے۔اسی بنا پر عدالت اس کے مالی تصرف پر شرعی پابندی عائد کرتی ہے،البتہ یہ اپنے مال میں سے اپنا خرچ اور جن کا خرچ اس پر لازم ہے،نکال سکتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے بیوی اور اولاد وغیرہ اور یہ پابندی اس کی املاک(جائیداد)فروخت ہونے تک برقرار رہے گی تاکہ شرعی طریقے سے قرض خواہوں کے قرضے ادا کر دیے جائیں۔مؤرخہ فلاں کو یہ فیصلہ تحریر ہوا۔ ٭ بے وقوف فضول خرچ پر پابندی کا تحریری نمونہ: بسم اللہ اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد:’’قاضی عدالت‘‘ فلاں شخص پر صحیح شرعی پابندی عائد کر رہا ہے اور اس وقت موجود مال یا اس کے بعد جو سرمایہ اسے حاصل ہو گا،میں تصرف کرنے سے اس کو روک رہا ہے،جبکہ شرعی طور پر گواہوں کے ذریعے سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ شخص کم عقل ہے اور اپنا سرمایہ ضائع کر رہا ہے،خریدوفروخت اور خرچ کے معاملات میں اسراف کا مرتکب ہو رہا ہے،لہٰذا یہ اس لائق ہے کہ اس پر پابندی عائد کر دی جائے اور درستی ٔ حال تک اس کو مال میں تصرف کرنے سے روک دیا جائے اور مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس پر یہ پابندی عائد ہو اور اس کے ہر طرح کے تصرف کو باطل قرار دیا جائے۔بنا بریں عدالت کا فیصلہ ہے کہ یہ پابند ہے اور مال میں تصرف نہیں کر سکتا اور یہ کہ یہ کم عقل ہے،شرعی پابندی اس پر لاگو ہے اور معاملات سے اس کو منع کر دیا گیا ہے۔اگر یہ کوئی مالی تصرف کرے گا تو شرعی اصولوں کی رو سے وہ باطل ہو گا،البتہ اس کے مال میں سے اس کا اور اس کی بیوی اور اولاد کا یومیہ خرچ اس سے مستثنیٰ ہے۔مذکورین اس کے مال میں سے روزانہ بقدر کفایت فلاں تاریخ سے خرچ حاصل کرتے رہیں گے۔فلاں تاریخ کو یہ تحریر ہوئی۔ وصیت کا بیان: ٭ وصیت کی تعریف: ایک شخص اپنی زندگی میں وصیت کرے کہ اس کے مرنے کے بعد فلاں چیز،مال وغیرہ کی عین یا منفعت فلاں شخص یا اشخاص کو عطا کی جائے یا فلاں چیز کی نگرانی فلاں کے حوالے کی جائے۔یا میرا قرضہ فلاں ادا کرے اسے وصیت کہتے ہیں۔اس تعریف کی رو سے اس کی دو اقسام ہیں،ایک یہ کہ وہ کسی کو وصیت کرے کہ وہ اس کا قرض ادا کرے یا کسی کا حق ادا کرے یا بالغ ہونے تک اولاد کا خیال رکھے اور دوسرا یہ کہ اس کا اتنا مال موت کے بعد فلاں شخص کو دیا جائے یا فلاں کام میں خرچ کیا جائے۔ ٭ وصیت کا حکم: شرعاً وصیت کرنا جائز ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ ’’اے ایمان والو!جب تم میں سے کسی کی موت آئے تو گواہی(کا نصاب)یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم(مسلمانوں)میں سے دو مرد عادل گواہ ہوں۔‘‘[1] [1] المآئدۃ 106:5۔