کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 53
((خُلِقَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ نُّورٍ،وَ خُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ،وَ خُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ)) ’’فرشتے نور سے،جن آگ کے شعلے سے اور آدم(علیہ السلام)اس چیز سے پیدا کیے گئے ہیں جو تمھیں بتادی گئی ہے(مٹی سے۔)‘‘[1] 3: جنگ بدر کے دن بہت سے مسلمانوں نے فرشتوں کو دیکھا اور جبریلِ امین علیہ السلام کو بھی کئی مرتبہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا جبکہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں(وحی لے کر)آتے تھے۔صحیح مسلم میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مشہور ’’حدیثِ جبریل‘‘ مروی ہے۔اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا:’’کیاتم جانتے ہو سائل کون تھا؟‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ا للہ اور اس کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)زیادہ جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:’’یہ جبریل تھے جو تمھیں تمھارے دین کی باتیں سکھانے آئے تھے۔‘‘[2] 4: ہر دور کے کروڑوں ایمان والوں نے فرشتوں کو تسلیم کیا ہے اور شک وشبہ کے بغیر اس بارے میں انبیاء ورسل علیہم السلام کے بیان کردہ حقائق کی تصدیق کی ہے۔ عقلی دلائل: 1: عقل فرشتوں کے وجود کا انکار نہیں کرتی کیونکہ عقل تو ان چیزوں کو رد اور باطل قرار دیتی ہے جو اجتماعِ ضِدَّین کا سبب ہوں جیسے ایک ہی وقت میں کسی چیز کا موجود اور معدوم ہونا یا دو متضاد اشیاء کا ایک ہی وقت میں یکجا ہونا جیسے اندھیرا اور روشنی وغیرہ،جبکہ فرشتوں کا وجود مان لینے سے مندرجہ بالا امور میں سے کچھ بھی لازم نہیں آتا۔ 2: سب دانا اس بات پر متفق ہیں کہ کسی چیز کے نتائج و اثرات اس کے وجود پر دلالت کرتے ہیں۔فرشتوں کے اثرات و نتائج بھی ان کے وجود پر دلالت کرتے ہیں۔دیکھیے ان میں روح الامین علیہ السلام ہیں،جن کے ذریعے سے انبیاء ورسل علیہم السلام کے پاس وحی آتی تھی،یہ ایک ایسا نتیجہ ہے جو ان کے وجود پر صریح دلالت کرنے والا ہے۔تمام جاندار مخلوقات کی روح بھی فرشتے ہی قبض کرتے ہیں،یہ بھی ایک واضح ’’اثر‘‘ ہے جو ملک الموت اور اس کے ساتھیوں کے موجود ہونے کی واضح دلیل ہے۔قرآنِ پاک میں ہے:﴿قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ﴾’’کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے،تمھاری روحیں قبض کر لیتا ہے۔‘‘[3] انسان کا جنوں اور شیاطین کی شرارتوں اور اذیت رسانیوں سے محفوظ رہنا،جبکہ یہ ان کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔وہ اسے دیکھتے ہیں مگر انسان انھیں نہیں دیکھ سکتا۔وہ اسے اذیت وتکلیف میں مبتلا کر سکتے ہیں مگر یہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا حتیٰ کہ یہ ان کے شر کو بھی دور نہیں کر سکتا۔یہ اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ انسان کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اُسے تکلیف نہیں پہنچنے دیتے۔چنانچہ ارشادِ ربانی ہے: [1] صحیح مسلم، الزہد و الرقائق، باب في أحادیث متفرقۃ، حدیث : 2996۔ [2] صحیح مسلم، الإیمان، باب بیان الإیمان والإسلام:، حدیث : 8۔ [3] السجدۃ 11:32