کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 515
سے کوئی چیز بھی مستثنیٰ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اور شرط ہے جس سے بیع فاسد اور باطل ہو جائے۔مکان کی قیمت اتنی طے ہوئی ہے کہ جو ’مشتری’’نے ’’بائع‘‘کے سپرد کر دی ہے اور اس پر قبضہ کر لیا ہے،مزید یہ کہ ’’بائع‘‘نے مکان مذکورہ مکمل طور پر مع مشمولات جن کا تذکرہ اوپر تحریر ہے اور جس کا حدود اربعہ اوپر بیان ہوا ہے ’’مشتری‘‘کے سپرد کر دیا ہے اور اس نے اس پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔خرید و فروخت کرنے والے دونوں افراد نے ایک دوسرے کو اس بیع میں اختیار دیا تھا جسے دونوں نے اپنا اپنا اختیار و مرضی استعمال کرتے ہوئے رد کر کے ’’عقد‘‘کو پختہ کر لیا ہے۔ پھر دونوں کے جاننے والے گواہوں کے دستخط اور تصدیق کے بعد ’’بائع‘‘ و’’مشتری‘‘ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ہیں۔’ ’مشتری‘‘فلاں،’’بائع‘‘فلاں اور تحریر مؤرخہ فلاں۔ ٭ بیع سلم کا تحریری نمونہ: اللہ کی تعریف و حمد کے بعد لکھے:میں فلاں اقرار کرتا ہوں اور لکھ دیتا ہوں کہ میں نے فلاں شخص سے اتنی رقم وصول کر لی ہے اور اس کے عوض میں فلاں شہر کے ماپ سے فلاں قسم کی گندم کی اتنی مقدار پورے دو ماہ بعد بمقام فلاں ادا کر دوں گا۔میں اس ادائیگی کی قدرت کا اعتراف کرتا ہوں اور’ ’مجلس عقد‘‘میں شرعی طریقے کے مطابق میں نے رقم وصول کر لی ہے جو کہ اتنی ہے۔یہ معاہدہ مورخہ::کو طے پایا۔ نام،دستخط اور تاریخ شفعہ کا بیان: ٭ شفعہ کی تعریف: ایک شخص نے مشترکہ جائیداد میں سے اپنا حصہ اپنے شریک کے بجائے کسی اور کو فروخت کر دیا تو دوسرے شریک کا اس حصے کو خریدنے کا استحقاق ’’حق شفعہ‘‘کہلاتا ہے۔ ٭ شفعہ کے احکام: 1: اس کا شرعی ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعے کا فیصلہ کیا ہے۔حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر منقسم چیز میں ’ ’شفعے‘‘کا فیصلہ دیا ہے اور جب تقسیم ہو کر الگ الگ حد بندی ہو جائے اور راستے مختلف ہو جائیں تو اس وقت’ ’شفعہ‘‘نہیں ہے۔‘‘[1] 2: اور ان چیزوں میں ’’شفعہ ‘‘نہیں ہے جو تقسیم ہو چکی ہیں اور ان کی حد بندی کر دی گئی ہے اور آنے جانے کے راستے الگ الگ ہو چکے ہیں۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَۃَ)) ’’پس جب حد بندی ہو جائے اور راستے مختلف ہو جائیں تو’ ’شفعہ‘‘نہیں ہے۔‘‘[2] اور اس لیے بھی کہ تقسیم کے بعد وہ ایک دوسرے کے صرف ہمسائے ہیں،شریک نہیں اور صحیح مذہب یہی ہے کہ محض [1] صحیح البخاري، الشفعۃ، باب الشفعۃ فیمالم یقسم:، حدیث: 2257۔ [2] صحیح البخاري، الشفعۃ، باب الشفعۃ فیمالم یقسم:، حدیث: 2257۔