کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 513
’’سونے کے بدلے سونا مت بیچو مگر یہ کہ برابر برابر ہو،اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر یہ کہ برابر برابر ہو۔‘‘[1] اس ’’بیع‘‘میں دوسری شرط یہ ہے کہ اسی ’’مجلس بیع‘‘میں تبادلہ ہو جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِذَا اخْتَلَفَتْ ھٰذِہِ الْأَصْنَافُ فَبِیعُوا کَیْفَ شِئْتُمْ،إِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ)) ’’جب یہ اجناس(چیزیں)مختلف ہوں تو جس طرح مرضی آئے فروخت کرو،جبکہ تبادلہ اسی وقت ہو جائے۔‘‘[2] 3 نقدی کا تبادلہ کرنے والے تقابُض(ایک دوسرے سے نقدی وصول کرنے)سے پہلے جدا ہو جائیں تو تبادلہ کالعدم ہوجائے گا،٭اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:یدًا بیدٍاور إلاَّ ھَائَ وَھَائَ کا تقاضا یہی ہے۔ بیع سلم(سلف): ٭ بیع سلم کی تعریف: اسے ’’بیع سلف‘‘بھی کہا جاتا ہے جس میں ایک شخص سامان خریدتا ہے،جس کی صفت معلوم اور متعین کردی جاتی ہے،بائع سے سامان وصول کرنے کا وقت بھی معلوم اور طے ہوجاتا ہے اور وہ سودا طے ہوتے ہی ’’بائع‘‘کو پوری رقم پیشگی دے دیتا ہے اور معین میعاد آنے پر اس سے سامان وصول کر لیتا ہے۔ ٭ بیع سلم کا حکم: اس کا حکم یہ ہے کہ یہ بیع جائز ہے،اس لیے کہ یہ بھی بیع(خرید و فروخت)ہے اور یہاں عدم جواز کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْیُسْلِفْ فِي کَیْلٍ مَّعْلُومٍ وَّوَزْنٍ مَّعْلُومٍ إِلٰی أَجَلٍ مَّعْلُومٍ)) ’’جو شخص کھجوروں میں بیع سلم(کرکے رقم پیشگی ادا)کرتا ہے تو وہ معین ناپ(یا)مقررہ وزن میں ایک معین مدت تک کے لیے سودا کرے۔‘‘[3] اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سال دو سال کی میعاد پر ’’بیع سلم‘‘کرتے تھے۔[4] ٭ بیع سلم کی شرائط: 1: قیمت نقدہو،مثلاً:سونا یا چاندی یا نوٹ۔اس طرح سودی چیز اپنی مثل کے ساتھ ادھار پر فروخت نہ ہو سکے گی۔ 2: ’’مبیع‘‘کا تعین صفت کے ساتھ اس طرح ہو کہ اس کی جنس،نوع اور مقدار معلوم ہو جائے تاکہ بعد میں فریقین کے مابین کسی قسم کا جھگڑا اور نزاع وقوع پذیر نہ ہو کہ جس سے ان کے مابین عداوت و دشمنی واقع ہو جائے۔ ٭ اگر ایک فریق نے ادائیگی کر دی تھی تو وہ دوسرے فریق سے اپنی کرنسی واپس لے لے اور جب دونوں کے پاس کرنسی(سونا چاندی اور جوان کے حکم میں ہے)موجود ہو گی تو اس وقت وہ نئے سرے سے دست بہ دست تبادلہ کریں گے۔(ع،ر) [1] صحیح البخاري، البیوع، باب بیع الذھب بالذھب، حدیث: 2175۔ [2] صحیح مسلم، المساقاۃ، باب الصرف و بیع الذہب بالورق نقدا، حدیث: 1587۔ [3] صحیح البخاري، السلم، باب السلم في وزن معلوم، حدیث: 2240، وصحیح مسلم، المساقاۃ، باب السلم، حدیث: 1604۔ [4] صحیح مسلم، المساقاۃ، باب السلم، حدیث: 1604۔