کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 511
مسلمان بھائی باہم مل بیٹھیں اور ایک ادارہ قائم کریں جس کا نام خزانۃ الجماعۃ ہو سکتا ہے،ایک شخص کو محافظ مقرر کریں جو اس کے چلانے کی ذمہ داری قبول کر لے اور اس خزانے(بینک)کے مقاصد درج ذیل ہوں: 1 امانتیں وصول کرنا،یعنی احباب کی رقموں کی مفت حفاظت۔ 2 مسلمان بھائیوں کے لیے قرضہ جات کا اجرا۔ 3 مشارکت،یعنی کاشتکاری،تجارت،تعمیر اور صنعت کے ان میدانوں میں سرمایہ لگانا جہاں ادارے کو منافع حاصل ہونے کی توقع ہو۔ 4 ایک شہر سے دوسرے شہر میں رقم منتقل کرنے کے مفت انتظامات،بشرطیکہ اس شہر میں اس بینک کی شاخ موجود ہو۔ 5 سال گزرنے پر خزانے(بینک)کے حسابات صاف کر لیے جائیں اور منافع حصہ داروں میں حصہ رسد کے مطابق بانٹ دیا جائے۔ ٭ بیمہ پالیسی: اگر کچھ لوگ ایک مشترکہ سرمایہ(فنڈ)قائم کریں جس میں ماہانہ یا جس مدت پر اتفاق ہو جائے ایک مخصوص شرح سے رقم جمع کریں اور جس میں بنیادی غرض یہ ہو کہ اگر مشارکت کے کاروبار میں اتفاقیہ کوئی حادثہ ہو جائے،مثلاً:آگ لگنا،جہاز کا ڈوبنا،گاڑیوں کا ٹکرانا وغیرہ تو پالیسی میں شریک شخص اتنی رقم لے سکے جس سے وہ اپنا نقصان پورا کر لے(اگر اپنی جمع کردہ دولت سے زیادہ لے رہا ہے تو زائد حصہ قرض ہو گا جس کی ادائیگی اس کے ذمے ہو گی)البتہ اس میں درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے: 1 حصہ داری میں اصل غرض اللہ کی رضا ہونی چاہیے تاکہ اس پر اسے اجروثواب ملے۔ 2 مصیبت زدہ حصہ داروں کوان کے حصے کے مطابق مساویانہ انداز پر رقوم دی جائیں گی،جس کا تعین اس پالیسی میں کر دیا جائے جس پر یہ متفق ہوئے تھے۔ 3 حصہ داروں کی جمع شدہ دولت کو تجارت میں مضاربت٭ کی شکل میں تعمیرات اور صنعت کے اداروں میں منافع حاصل کرنے کے لیے لگانا جائز ہے اور اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ ٭صرف،یعنی سونا چاندی اوران کے حکم میں شامل کرنسی کا باہمی تبادلہ: صرف کی تعریف:سونے چاندی کی باہم بیع،جیسے سونے کے دینار کی ’’بیع‘‘چاندی کے درہم کے ساتھ کرنا ’’صرف‘‘کہلاتی ہے جسے تبادلہ نقدیات کہہ سکتے ہیں۔ ٭ نقدی(سونا چاندی)کے باہمی تبادلے کا حکم: یہ تبادلہ جائز ہے،اس لیے کہ یہ بھی ایک بیع ہی ہے جو کتاب و ٭ مضاربت کا بیان آگے آ رہا ہے۔(ع،ر)