کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 506
وصول کروں گا۔’رِبَاالنَّسِیئَۃِ‘ یعنی سود ادھار کی دوسری صورت یہ ہے کہ’ ’اصول ربویات ‘‘میں سے کوئی چیز اپنی جنس کے ساتھ ادھار پر فروخت کرے،مثلاً:سونا،سونے کے ساتھ ادھار پر یا چاندی چاندی کے ساتھ،کھجور،کھجور کے ساتھ اور گندم گندم کے ساتھ،چاہے دونوں برابر ہوں مگر ایک طرف سے ادھار ہو تو یہ’ ’سودِ ادھار‘‘ہے۔٭ سود کا حکم: سود کی ہمہ اقسام حرام ہیں،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾’’اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔‘‘[1] نیز فرمان الٰہی ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً﴾’’اے ایمان والو!کئی گنا کر کے سود نہ کھاؤ۔‘‘[2] اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم آکِلَ الرِّبَا وَمُوکِلَہُ وَکَاتِبَہُ وَشَاھِدَیْہِ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے،کھلانے والے،گواہوں اور لکھنے والے پر لعنت کی ہے۔‘‘[3] اور فرمایا:’دِرْھَمٌ رِّبًا یَّأْکُلُہُ الرَّجُلُ وَھُوَ یَعْلَمُ،أَشَدُّ مِنْ سِتَّۃٍ وَّثَلَاثِینَ زَنِیَّۃً‘ ’’سود کا ایک درہم جو مرد جان بوجھ کر کھا لے،وہ چھتیس بار زنا سے زیادہ(بھاری)ہے۔‘‘[4] نیز ارشاد فرمایا: ’اَلرِّبَا ثَلَاثَۃٌ وَّسَبْعُونَ بَابًا،أَیْسَرُھَا مِثْلُ أَنْ یَّنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہُ،وَإِنَّ أَرْبَی الرِّبَا عِرْضُ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ‘ ’’سود کے تہتر درجے ہیں،ان کا معمولی یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے نکاح(زنا)کرے اور سب سے بڑا سودمسلمان کی عزت تباہ کرنا ہے۔‘‘[5] مزید فرمایا:’اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ‘ ’’سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی،اے اللہ کے رسول!وہ کیا ہیں ؟ فرمایا:’اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ،وَالسِّحْرُ،وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ،وَأَکْلُ الرِّبَا،وَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیمِ،وَالتَّوَلِّي یَوْمَ الزَّحْفِ،وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ‘ ’’اللہ کے ساتھ شرک،جادو،ایسی جان کو قتل کرنا جسے(بے عزت کرنا،لوٹنا یا قتل کرنا)اللہ نے حرام قرار دیا ہے مگر ٭ ایک ہی جنس(مثلاً:آٹے کے بدلے آٹے)کا تبادلہ جبکہ ایک طرف ادھار ہو،اگر بیع کے طور پر ہے تو یہ ممنوع ہے اور اگر قرض حسنہ کے طور پر ہے تو پھر مستحب ہے کیونکہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح ثابت ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ بیع میں دوسرے پر احسان کرنے کی بجائے اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے جبکہ قرض حسنہ میں قرض لینے والا محض ضرورت کی بنا پر قرض لیتا ہے اور دینے والا از راہ ہمدردی(سود کے بغیر)قرض دیتا ہے۔واللہ اعلم(محمد عبدالجبار) [1] البقرۃ 275:2۔ [2] اٰل عمرٰن 130:3۔ [3] صحیح مسلم، المساقاۃ، باب لعن آکل الربا ومؤکلہ، حدیث: 1598۔ [4] [ضعیف] مسند أحمد: 225/5۔ اس کی سند میں جریر بن حازم مدلس ہے اور اس کے تمام شواہد ضعیف ہیں ۔ [5] [ضعیف] المستدرک للحاکم: 37/2، حدیث: 2259، وسنن ابن ماجہ، التجارات، باب التغلیظ في الربا، حدیث : 2275,2274۔