کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 495
٭ بیع و تجارت کے ارکان: 1: بائع:(بیچنے والا)اس کے لیے لازم ہے کہ جو چیز بیچ رہا ہے یہ اس کا مالک ہو،یا اسے اس کے بیچنے کی اجازت حاصل ہو،نیز معاملہ فہم ہو،کم عقل نہ ہو۔ 2: مشتری:(خریدنے والا)خریدار کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کم عقل اور نابالغ نہ ہوبلکہ عقد و تصرف کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔ 3: مبیع:جو چیز بیچی جا رہی ہے اور جس کی قیمت طے ہو رہی ہے وہ مباح اور پاک ہو’’بیچنے والا‘‘اس کی ادائیگی پر قادر ہو،وہ ’’خریدار‘‘کے لیے معلوم ہو،چاہے اس کے اوصاف ہی سے معلوم کرے۔ 4: الفاظ عقد:’’ایجاب و قبول‘‘ مثلاً:ایک شخص کہے کہ مجھے فلاں چیز بیچ دے اور ’’بائع‘‘کہے کہ میں نے(وہ چیز)تیرے پاس بیچ دی ہے۔بعض اوقات کلام کے بغیر بالفعل بھی عقد ہو جاتا ہے جسے بیع بالتعاطی کہتے ہیں،مثلاً:مشتری بائع کو 100دے اور بائع اسے وہ کپڑا دے دے اور زبان سے کچھ نہ بولیں۔ 5: باہمی رضا مندی:فریقین کی باہمی رضا کے بغیر کوئی بیع صحیح نہیں ہے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّمَا الْبَیْعُ عَنْ تَرَاضٍ‘ ’’بیع رضامندی کی بنیاد پر ہی درست ہے۔‘‘[1] بیع میں جائز اور ناجائز شرائط: ٭ صحیح اور جائز شرطیں: ’’بیع‘‘میں کسی صفت کی شرط لگانا درست ہے،اگر وہ صفت اس چیز میں پائی گئی تو بیع صحیح ہو گی ورنہ باطل،مثلاً:ایک شخص کتاب خریدتا ہے اور کہتا ہے میں تو صرف زرد کاغذ والی کتاب لوں گا یا مکان خریدتے وقت کہتا ہے کہ اس کے دروازے لوہے کے ہوں،وغیرہ۔اسی طرح کسی خاص منفعت کی شرط بھی جائز ہے،مثلاً:جانور بیچنے والا کہتا ہے:میں فلاں جگہ تک اس پر سواری کروں گا،پھر آپ کے حوالے کر دوں گا یا مکان فروخت کرنے والا شرط لگاتا ہے کہ ایک ماہ میں اس میں سکونت اختیار کروں گا،پھر خالی کروں گا یا کپڑے کا ’’خریدار‘‘شرط لگاتا ہے کہ اسے سلا کر دے یا لکڑی خریدنے والا کہتا ہے اسے کاٹ کر دے وغیرہ،اس لیے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اونٹ پر سوار ہونے کی شرط لگائی تھی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خریدا تھا۔[2] ٭غیر صحیح اور ناجائز شرطیں: 1: ایک ’’بیع‘‘میں دو شرطیں لگانا،مثلاً:لکڑی خریدنے والا شرط لگائے کہ اسے کاٹ کر اور اٹھا کر فلاں جگہ پہنچا(تب خریدوں گا۔)اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا یَحِلُّ سَلَفٌ وَّبَیْعٌ،وَلَا شَرْطَانِ فِي بَیْعٍ‘ ’’قرض اور بیع(کو ایک دوسرے سے نتھی کرنا،یعنی یہ کہنا:پہلے قرض دو،پھر سودا کروں گا)حلال نہیں اور نہ ہی [1] [صحیح] سنن ابن ماجہ،التجارات،باب بیع الخیار، حدیث: 2185، وصحیح ابن حبان: 340/11، حدیث: 4967 اور بوصیری نے اسے صحیح کہا ہے۔ [2] صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب استئذان الرَّجل الإمام، حدیث: 2967۔