کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 490
ہے[1] اور معاوضہ لے کر چھوڑ دینا بھی [2]اور بغیر کسی عوض کے احسان کرنا بھی ثابت ہے۔[3] باب:2 گھوڑ دوڑ،تیر اندازی اور بدنی و عقلی ورزشیں ورزشوں کے اغراض و مقاصد: ابتدائے اسلام میں جملہ ورزشوں،جو ’’الفروسیہ‘‘کے نام سے معروف تھیں،کا بنیادی مقصد حق ثابت کرنا،حق کی مدد اور حق کا دفاع تھا۔ان کا مقصد مال و دولت کی کثرت اور شہرت حاصل کرنا نہیں تھا،یہی وجہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں ذہن میں فساد و تکبر پیدا نہیں ہوتا تھا،جیسا کہ آج کل اس قسم کے مقابلوں میں حصہ لینے والوں کا اصل مطمحِ نظر یہی چیزیں ہوتی ہیں۔اس سے واضح ہوا کہ تمام مشقوں اور ورزشوں میں اصل غرض نیکی،تقویٰ اوراللہ کی راہ میں جہادی قوت کی استعداد حاصل کرنا ہے۔اسلام میں ورزشوں کے جواز کا صرف یہی مقصد ہے اور جو اسے کسی اور انداز پر سمجھ رہا ہے،وہ اسے اچھے مقصد سے ہٹا کر برے مقصد،مثلاً:بے فائدہ کھیل اور جوئے وغیرہ میں لا رہا ہے جو کہ حرام ہے۔اسلامی ورزشوں کی مشروعیت کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾ ’’اور جہاں تک تم سے ہو سکے ان(دشمنوں)کے لیے قوت تیار کرو۔‘‘[4] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَیْرٌ وَّ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیفِ)) ’’طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور محبوب ہے۔‘‘[5] اسلام میں قوت سے مراد،شمشیر زنی،نیزہ بازی،دلیل اور برہان ہے۔ کن مشقوں میں انعام مقرر کیا جا سکتا ہے؟: گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ کے مقابلے اور تیر اندازی میں شرط لگانا اور وصول کرنا،علمائے اسلام کے نزدیک جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ))’’انعام صرف اونٹ،گھوڑے اور تیر اندازی میں ہے۔‘‘[6] [1] صحیح البخاري، المغازي، باب حدیث بني النضیر:، حدیث: 4028، وصحیح مسلم، الجھاد، باب جواز قتال من نقض العھد:، حدیث: 1768۔ [2] صحیح مسلم، الجھاد، باب الإمداد بالملائکۃ في غزوۃ بدر وإباحۃ الغنائم، حدیث: 1763۔ [3] صحیح البخاري، الصلاۃ، باب الاغتسال إذا أسلم و ربط الأسیر أیضًا في المسجد، حدیث: 462، وصحیح مسلم، باب ربط الأسیر وحبسہ وجواز المنّ علیہ، حدیث: 1764۔ [4] الأنفال 60:8۔ [5] صحیح مسلم، القدر، باب الإیمان بالقدر والإذعان لہ،حدیث: 2664۔ [6] [صحیح] سنن أبي داود، الجھاد،باب في السبق،حدیث: 2574، اسے ترمذی نے حسن اور ابن حبان حدیث(: 4671)نے صحیح کہا ہے۔