کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 489
رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)نے حرام کیا ہے،حرام جانتے ہیں اور نہ ہی وہ سچے دین کے تابع ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کریں۔‘‘[1] ٭نفل: ’’نفل‘‘ اسے کہتے ہیں جو امام اس شخص کے لیے طے کرتا ہے جس سے کسی خاص جنگی مہم انجام دینے کا کہا جاتا ہے۔اس کے انجام دینے پر حصۂ غنیمت کے علاوہ مزید حصۂ غنیمت میں سے خمس(پانچویں حصہ)کے اخراج کے بعد بطور خصوصی انعام اسے دیا جاتا ہے مگر یہ حاصل شدہ غنیمت کے چوتھائی سے زائد نہیں ہونا چاہیے اگر دشمن کے علاقے میں داخل ہونے کے وقت یہ اعلان کیا گیا ہو۔جبکہ دشمن کے علاقے سے واپسی پر مہم سر کرنے کی صورت میں تہائی سے زائد نہیں ہونا چاہیے،اس لیے کہ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((شَھِدْتُّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم نَفَّلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَۃِ وَالْثُّلُثَ فِي الرَّجْعَۃِ)) ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ابتدا میں چوتھائی اور واپسی پر تہائی بطور ’’نفل‘‘دیتے تھے۔‘‘[2] جنگی قیدیوں کے احکام: مسلمان علماء میں اختلاف ہے کہ کافر جنگی قیدیوں کو قتل کر دینا ہی ضروری ہے،یا ان سے فدیہ(معاوضہ)وصول کرکے چھوڑ دیا جائے،یا ان پر احسان کر کے چھوڑ دیا جائے یا ان کو غلام بنا لیا جائے۔اختلاف کا سبب یہ ہے کہ اس بارے میں دو آیتیں آئی ہیں،اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً﴾ ’’ان کی گردنیں اڑاؤ،جب تم انھیں خوب قتل کر لو تو(جو زندہ پکڑے جائیں ان کو)مضبوطی سے باندھ لو،پھر یا احسان کر کے چھوڑ دینا یا معاوضہ لے کر۔‘‘[3] اس آیت کریمہ میں امام کو اختیار دیا گیا ہے کہ قیدیوں پر احسان کر کے چھوڑ دے یا مال،ہتھیار اور اپنے قیدیوں کے عوض میں تبادلہ کرے۔اسی طرح اللہ جل مجدہ کا فرمان ہے: ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ﴾’’مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کر دو۔‘‘[4] اس آیت کریمہ میں قید کیے بغیر قتل کرنے کا حکم ہے۔ جمہور کی رائے یہ ہے کہ امام کو قتل کرنے،فدیہ لینے،احسان کرنے اور غلام بنانے کا پورا اختیار ہے اور وہ مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق فیصلہ کر لے،اس لیے کہ ’’صحیح بخاری‘‘میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض قیدیوں کو قتل کرنا ثابت [1] التوبۃ 29:9۔ [2] [صحیح] مسند أحمد: 160,159/4، وسنن أبي داود، الجھاد،باب فیمن قال الخمس قبل النفل،حدیث: 2750، والمستدرک للحاکم: 133/2، حدیث: 2598، اسے امام حاکم اور ذہبی وغیرہ نے صحیح کہا ہے۔ [3] محمد 4:47۔ [4] التوبۃ 5:9۔