کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 488
ہے جس طرح مالِ غنیمت کے پانچویں حصے میں امام اپنی صوابدیدی نظر استعمال کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿مَّا أَفَاءَ اللّٰهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ﴾ ’’بستیوں والوں کا جو مال اللہ تعالیٰ بغیر لڑے بھڑے اپنے رسول کو عطا کر دے،وہ اللہ،رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)(آپ کے)قرابت داروں،(دیگر)یتیموں،مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ یہ محض تمھارے اغنیاء میں دولت بن کر نہ رہ جائے۔‘‘[1] ٭خراج: جن زمینوں پر مسلمانوں نے جنگ کر کے زبردستی قبضہ کیا ہو اور ان پر سالانہ ٹیکس لاگو کر دیا ہو،اسے ’’خراج‘‘کہتے ہیں۔ایسی زمینوں کے بارے میں امام کو اختیار ہے کہ لڑائی کرنے والوں میں تقسیم کر دے یا مسلمانوں کے لیے وقف قرار دے دے یا جس مسلمان یا ذمی کے قبضے میں یہ زمین ہو،اس پر ہمیشہ کے لیے سالانہ ٹیکس لاگو کر دے اور اسے مسلمانوں کے مصالح عامہ میں خرچ کرے،جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے شام،عراق اور مصر کی مفتوحہ اراضی میں کیا تھا۔[2] تنبیہ:اگر امام نے دشمن کے ساتھ ایک معین محصول پر صلح کی ہو،پھر اس علاقے کے سب لوگ اسلام قبول کر لیں تو اسلام کی وجہ سے ’’خراج‘‘ ان سے ساقط ہو جائے گا،البتہ جنگ میں زبردستی قبضے میں لی ہوئی زمینوں کا یہ حکم نہیں ہے،ان کے باشندے بعدازاں مسلمان بھی ہو جائیں تو بھی ان سے’ ’خراج‘‘ساقط نہیں ہو گا۔ ٭جزیہ: یہ ایک ’’مالی ٹیکس‘‘ہے جو ذمیوں سے سالانہ وصول کیا جاتا ہے۔جن ذمیوں کے شہروں پر مسلمانوں نے بالجبر قبضہ کیا ہو،ان سے سالانہ جزیہ چار دینار سونا یا چالیس درہم چاندی فی بالغ مرد کے حساب سے وصول کیا جاتا ہے۔بچوں اور عورتوں سے جزیہ نہیں لیا جاتا اور تنگ دست فقیر اور بوڑھا یا بیمار جو کمانے سے عاجز ہیں،وہ بھی جزیہ سے مستثنیٰ ہیں۔البتہ وہ آدمی ج ن کے علاقے صلح کے ذریعے سے قبضے میں آچکے ہوں تو ان سے وہی مقدار جزیہ لیا جائے گا جس پر صلح ہوئی ہے۔یاد رہے کہ ان کے اسلام قبول کرنے کی صورت میں جزیہ ان سے ساقط ہو جائے گا۔جزیہ بھی مصالح عامہ کے کاموں میں خرچ کیا جاتا ہے اور ان احکام کی بنیاد یہ فرمان ربانی ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ ’’اہل کتاب کے ان لوگوں سے لڑو جو اللہ اور آخرت کے دن کو نہیں مانتے اور نہ اس چیز کو جسے اللہ اور اس کے [1] الحشر 7:59۔ [2] تاریخ الطبري: 217/4۔