کتاب: منہاج المسلم تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلق قرآن وسنت کی تعلیمات - صفحہ 476
’’جو کوئی اس حال میں مرا کہ کفار سے غزوہ نہیں کیا اور نہ اپنے دل سے غزوہ کرنے کی بات کی،وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرا۔‘‘[1] نیز ارشاد ہوا:’وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِّنَ الْمُؤْمِنِینَ لَا تَطِیبُ أَنْفُسُھُمْ أَنْ یَّتَخَلَّفُوا عَنِّي،وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُھُمْ عَلَیْہِ،مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِي سَبِیلِ اللّٰہِ،وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہِ!لَوَدِدْتُّ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلُ،ثُمَّ أُحْیَا،ثُمَّ أُقْتَلُ‘ ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر ایسا نہ ہو کہ مومن مجھ سے پیچھے رہنا پسند نہیں کرتے اور میں بھی انھیں(سفر جہاد کے لیے)سواری دینے کی طاقت نہیں پاتا(اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں)تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی فوجی دستے سے پیچھے نہ رہوں۔قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں،پھر زندہ کیا جاؤں،پھرقتل کیا جاؤں،پھر زندہ کیا جاؤں،پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں،پھر قتل کیا جاؤں۔‘‘[2] نیز فرمایا:’مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ فَتَمَسَّہُ النَّارُ‘ ’’جس بندے کے قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوں اس کو جہنم کی آگ نہیں لگے گی۔‘‘[3] فرمان نبوی ہے: ((مَا أَحَدٌ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ أَنْ یَّرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا،وَلَہُ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا الشَّھِیدُ یَتَمَنّٰی أَنْ یَّرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ،لِمَا یَرٰی مِنَ الْکَرَامَۃِ)) ’’بہشت میں داخل ہونے والے کو زمین پر جو کچھ ہے اگر دے دیا جائے تو پھر بھی وہ واپس دنیا میں آنا نہیں چاہے گا،سوائے شہید کے کہ وہ اس اعزاز کی بنا پر جو اسے ملا،تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور دس بار قتل ہو جائے۔‘‘[4] جہاد میں رباط:تعریف،حکم اور فضیلت: ٭ رباط کی تعریف: اسلامی لشکر کا پوری طرح مسلح ہو کر خطرے کی جگہوں اور سرحدوں پر،جہاں امکان ہے کہ دشمن اندر آ سکتا ہے یا مسلمانوں کی آبادی پر حملہ آور ہو سکتا ہے،ٹھہرنا ’’رباط‘‘کہلاتا ہے۔ ٭ رباط کا حکم: جہاد کی طرح یہ بھی فرض کفایہ ہے،جب بعض افراد یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہوں تو باقی لوگوں [1] صحیح مسلم، الإمارۃ، باب ذم من مات ولم یغز:،حدیث: 1910، وسنن أبي داود، الجھاد، باب کراھیۃ ترک الغزو، حدیث: 2502۔ [2] صحیح البخاري، الجھاد والسیر،باب تمني الشھادۃ، حدیث: 2797۔ [3] صحیح البخاري، الجھاد والسیر، باب من اغبرت قدماہ في سبیل اللّٰہ، حدیث: 2811۔ [4] صحیح البخاري، الجھاد والسیر، باب تمني المجاھد أن یرجع إلَی الدنیا، حدیث: 2817، وصحیح مسلم، الإمارۃ، باب فضل الشھادۃ في سبیل اللّٰہ تعالٰی، حدیث: 1877۔